Qataat - Imam Hussain(as)
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

ہَم جو یہ اہتمام کرتے ہیں 
اپنا اونچا مقام کرتے ہیں 

جشن سرورؑ مانے والوں کو 
عرش والے سلام کرتے ہیں 

جب لگاتے ہیں نعرہ حیدر کا 
چاند تارے سلام کرتے ہیں 

اجر جب ہو ادا رسالت کا
خود پیمبرؐ سلام کرتے ہیں
ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓ-------------------------------------

عشقِ مولاؑ میں گُہر رول دیے جاتے ہیں
واں بھی تحفے مجھے انمول دئے جاتے ہیں
ہاتھ ماتم کے لئے قبر میں آزاد رہیں
اِس لئے بندِ کفن کھول دئے جاتے ہیں


کرم حسینؑ کا ہَم پر مزید ہو جائے 
مریں جو فرش عزا پر تو عید ہو جائے 
عجیب جذبہ ہے ہر ماں دعائیں کرتی ہے 
خدا کرے میرا بچہ شہید ہو جائے 


فرش پہ اُترے ہوئے عرشِ بریں دیکھے ہیں 
آج تو خُلد كے باسی بھی زمین دیکھے ہیں 
قاسمؑ و اکبرؑ و عباس ؑو حسینؑ و ( اصغرؑ ) سجّاد
حُسْن نے پہلی دفعہ اتنے حَسِین دیکھے ہیں 


فرش کو عـــرش بناؤ کہ حسیـــنؑ آۓ ہیں 
سب کو پیغـــام سناؤ کہ حسینؑ آۓ ہیں
اپنے مغــرور خیــالوں سے گنوا بیٹھا ہے پر 
جـــاؤ فطرس کو بتاؤ کہ حسیـــنؑ آۓ ہیں


------------------------
گر نہ آتے حسینؑ دنیا میں
کائنات اپنا حُسن کھو جاتی 
چاند ہو جاتا دور تاروں سے 
دن كے سینے پہ رات سو جاتی 

گر چہ اولاد کی سخاوت سے 
شہہؑ کو روکا نہ ہوتا مرسلؐ نے 
دہر میں آدھی نسل آدَم کی 
آدھی راہب کی قوم ہو جاتی 

----------------------
کوفے كے کربلا كے ہیں چہرے الگ الگ 
ظلم و ستم كے طور طریقے الگ الگ 
سَر شق ہوا پدر کا ، پسر کا گلا کاٹا 
اندازِ عشق ایک ہے سجدے الگ الگ 

----------------------------
سجدے میں تیغ کھا كے علیؑ نے بتا دیا 
کر كے تمام سجدے کو شہہؑ نے دکھا دیا 
مقتل بنا دیا تھا مصلے کو باپ نے 
بیٹے نے قتل گاہ کو مصلیٰ بنا دیا 

فرش کو عـــرش بناؤ کہ حسیـــنؑ آۓ ہیں 
سب کو پیغـــام سناؤ کہ حسینؑ آۓ ہیں
اپنے مغــرور خیــالوں سے گنوا بیٹھا ہے پر 
جـــاؤ فطرس کو بتاؤ کہ حسیـــنؑ آۓ ہیں

---------------------------------------
میرے مالک یہی توقیر دے دے 
نہ دے خوشیاں غمِ شبیرؑ دے دے 
درِ شبیرؑ پر جو میں کھڑا ہوں 
کوئی آ کر مجھے زنجیر دے دے

----------------------------
نہ کچھ مانگنا جا كے روضہ پہ شہہؑ كے 
بس اِک مانگنے کی ادا مانگ لینا 
سبھی زندگی مانگتے ہیں وہاں پر 
مگر تم وہاں پر قضا مانگ لینا

------------------------------
کاٹ سکتا ہے رگِ گردن سے خنجر آدمی
لشکروں کو روند سکتے ہیں بہتر آدمی
جوش ملیح آبادی
----------------------------

دیکھا بوقت عصر یہ سورج نے معجزہ
پیاسے گلے نے شمر کی تلوار کاٹ دی
صفدر
----------------------------

تو نے مٹی سے الجهنے کا نتیجہ دیکها؟
ڈالدی میرے بدن نے تری تلوار پہ خاک

----------------------------
پھر یوں ہوا کہ آنکھوں سے لینا پڑی مدد
لفظوں میں آ سکی نہ محبت حسینؑ کی
نزاکت

----------------------------
جب ہو کے گذر جائیں سوا لاکھ پیمبرؑ
تب جا کے کہیں آتا ہے دنیا میں اِک حسینؑ

----------------------------

کچھ خاص ہی عطا ہے ربِ ذوالجلال کی
ہر ہاتھ کو نصیب کہاں ماتمِ حسینؑ

============================================

یوں غمِ شاہ نے فطرت پہ حکومت کی ہے
میرے ہونٹوں نے تبسم سے بغاوت کی ہے
لب ہلاتے ہیں وہی لوگ خلافِ مولاؑ
جن کی مائوں نے امانت میں خیانت کی ہے
------------------------------

اے خدائے لم یزل ایسی کوئی تدبیر ہو
روضہءِ شبـیرؑ ہو اور ہاتھ میں زنجیر ہو
-------------------------------

لگائی جاتی ہیں ماتم پہ بندشیں جتنی 
صدائیں سینوں سے اتنی بلند ہوتی ہیں 
غم حسین کو فتووں سے روکنے والو 
کبھی ہوائیں بھی مٹھی بند ہوتی ہیں 

-----------------------------
روح اذان ہے باپ تو بیٹا نمازِ دین 
مسجد علیؑ کی ہے تو مصلہ حسینؑ کا 
جاگیرِ کبریا ہوئی تقسیم اِس طرح 
کعبہ علیؑ کا عرشِ معلیٰ حسینؑ کا 

-----------------------------
فرماتے تھے یہ رو کے شہیشاہِ خاص و عام
اماں قبول کیجئے اب آخری سلام
ممکن نہیں مدینہ میں شبیرؑ کا قیام 
اب کربلا میں ھوگا ہمارا سفر تمام 
   اب صبح و شام حال سُنانے نہ آئیں گے 
   اماں ، اب ہم چراغ جلانے نہ آئیں گے 

----------------------------
اوصافِ کردگار کا مظہر جنہیں کہیں 
وہ پاس میں کھڑے ہیں مگر دوریاں بھی ہیں 
کچھ بھی نہ سن سکیں گے خلاف غم حسینؑ
اِس میں ہمارے خون کی مجبوریاں بھی ہیں 

----------------------------
کربلا كے دشت میں بھی ناصرانِ شاہ سے 
سجدہ خالق نہ چھوٹا اور نہ چھوٹی کتاب 
ماں سوا کرب و بلا كے تو نے دیکھا ہے کہیں 
روشنی خنجر كے اُوپر زیر خنجر آفتاب 

----------------------------
کہہ كے اِک ماں چلی ہے مجلس کو 
میری آنکھوں كے چین رہتے ہیں 
اِس لیے ڈھونڈتی ہوں اشکوں کو 
آنسوؤں میں حسینؑ رہتے ہیں 

----------------------------
حسینؑ کو گر حَسِین لکھوں تو حُسْن پر ہے یہ مہربانی 
حسینؑ کو گر جوان لکھوں تو ناز کرتی پھرے جوانی 

----------------------------
بے خبر ہو كے زمانے کی سبھی یادوں سے 
دین كے سلطان تیری یاد میں کھو جاتے ہیں 
دِل جو کہتا ہے چلو خواب میں جنت دیکھیں 
ہَم عزا خانے کی دہلیز پہ سو جاتے ہیں 

---------------------------
مدح مولا میں اگر کوئی قصیدہ ہو جائے 
بیٹھے بیٹھے یہیں فردوس کا سودا ہو جائے 
یہ تو حافظِ قرآن تیری آنکھیں ہیں 
ان سے پِھر جائے یہ سورج بھی تو اندھا ہو جائے 

---------------------------
بن كے تسکین جگر روح کے چین آتی ہے 
جب بھی آتی ہے یہ کرتی ہوئی بین آتی ہے 
تم مصلے پہ میرے خاک شفا رہنے دو 
مجھ کو سجدے میں بھی خوشبوئے حسینؑ آتی ہے 

--------------------------
نقش عرفانِ محبت کا مٹایا ہی نہیں 
غم شبیرؑ کبھی دِل سے بھلایا ہی نہیں 
تو نے تاریخ میں بدلہ ہی نہیں رنگِ غلاف 
یعنی کعبے نے کبھی سوگ بڑھایا ہی نہیں 

-------------------------
ستم شعار نہ اہل جفا کا حصہ ہے 
ہر ایک لفظ میرا سیدہؑ کا حصہ ہے 
جہاں شبیہ ضریحِ حسینؑ رکھی ہے 
وہ میرا گھر نہیں اب کربلا کا حصہ ہے 

------------------------
گر نہ آتے حسینؑ دنیا میں
کائنات اپنا حُسن کھو جاتی 
چاند ہو جاتا دور تاروں سے 
دن كے سینے پہ رات سو جاتی 

گر چہ اولاد کی سخاوت سے 
شہہؑ کو روکا نہ ہوتا مرسلؐ نے 
دہر میں آدھی نسل آدَم کی 
آدھی راہب کی قوم ہو جاتی 

----------------------
کوفے كے کربلا كے ہیں چہرے الگ الگ 
ظلم و ستم كے طور طریقے الگ الگ 
سَر شق ہوا پدر کا ، پسر کا گلا کاٹا 
اندازِ عشق ایک ہے سجدے الگ الگ 

----------------------------
سجدے میں تیغ کھا كے علیؑ نے بتا دیا 
کر كے تمام سجدے کو شہہؑ نے دکھا دیا 
مقتل بنا دیا تھا مصلے کو باپ نے 
بیٹے نے قتل گہ کو مصلیٰ بنا دیا 

----------------------------
حسینؑ پشت پہ تھے اور رسولؐ سجدے میں
بس اہلِ حق ہی کو معلوم ہے یہ راز رسولؐ
اُدھر رسول تو پڑھتے رہے نمازِ خدا 
اِدھر حسینؑ کو پڑھتی رہی نمازِ رسولؐ

-------------------------------
نازل ہوئے حسینؑ تو کہنے لگے رسولؐ
اَنَا منِ الحسینؑ کا سامان آ گیا 
عباسؑ كے ظہور پہ کرّارؑ نے کہا 
لو وقت كے رسولؐ کا عمرانؑ آ گیا