Qataat - Imam Ali(as)
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

شاعر تھے مقرر تھے نبیؐ سے پہلے 
تھیں اور زبانیں عربی سے پہلے 
لگتا ہے مگر نہج البلاغہ پڑھ كے 
بولا ہی نہیں کوئی علیؑ سے پہلے 

---------------------------------
آندھی کبھی بارش کبھی طوفان کا عالم
ہر دور میں موسم كے تغیر سے لڑی ہے
چودہ سو برس بیت گئے عشقِ علیؑ میں
ٹوٹی ہوئی دیوار بھی پیروں پہ کھڑی ہے 
-----------------------------------

خدا كے گھر میں آنا تھا ابو طالبؑ كے بیٹے کو 
نہ ہوتا یہ تو ہر منظر پس منظر میں آ جاتا 
اگر بنت اسدؑ بیتِ خدا کی سمت نہ آتیں
سمٹ کر خانہءِ کعبہ علیؑ كے گھر میں آ جاتا 
--------------------------------------

پردہءِ شب تھا مگر اپنا ہدف ڈھونڈ لیا 
پتھروں میں جو چھپا تھا وہ شرف ڈھونڈ لیا 
یا علیؑ آ گیا بے ساختہ لب پر میرے 
میں نے دیوار میں کعبے کی نجف ڈھونڈ لیا 
------------------------------

جدارِ خانہءِ کعبہ كے پتھر 
علیؑ كے عشق میں ٹوٹے پڑے ہیں 
نہ روکا راسته بنتِ اسدؑ کا 
مسلمانوں سے یہ پتھر بڑے ہیں 
-----------------------------

اب نہ الجھن نہ بےقراری ہے 
مدحِ مولاؑ لبوں پہ جاری ہے 
کیوں بناتا ہے منه تبرے پر 
کیا تیری اُن سے رشتہ دری ہے
-----------------------------

ابھی تو بنتِ اسد تھیں طوافِ کعبہ میں
کہ پتھروں کے لبوں پر عجیب لالی تھی
خدا کا شکر کہ اِک سمت رک گئیں ورنہ
دیوار کعبہ ہر اِک سمت سے پھٹنے والی تھی
------------------------------------

خدا کی ذات کا کارِ ہنر سمجھ آئے
بشر کو کیسے ولا کا سفر سمجھ آئے
نہ اپنے ذہن پہ یوں زور ڈال نور علی
علیؑ علیؑ نہیں رہتا اگر سمجھ آئے
-----------------------------

کعبے میں علیؑ آئے تو کعبہ یہ پکارا
انوارِ علیؑ عالمِ انوار سے آئے
مالک ہے یہی گھر کا سو اب اس کی ہے مرضی
دروازے سے آ جائے کہ دیوار سے آئے
-----------------------------

لحد میں تذکرئہِ بو تراب کر دوں گا
سوال کوئی بھی ہو لاجواب کر دوں گا
میرے گناہ فرشتوں ہیں بے حساب تو کیا
علیؑ کو آنے دو سارا حساب کر دوں گا
----------------------------

علیؑ کے بغض میں ایسا نصیب پھوٹ گیا
ذہن سے دامنِ عقل و شعور چھوٹ گیا
اب ان کی نسل میں کیسے کوئی حلالی ہو
علم کو دیکھ کے جن کا نکاح ٹوٹ گیا
-----------------------------

علیؑ کی منقبت جاری ہے رک جاؤ ابھی ٹھرو
مکمل ہونے دو اِک اِک کا چہرہ دیکھا جائے گا
نمازیں مار کر منہ پر کہا اللہ نے بندے
یہ محشر ہے یہاں پہلے عقیدہ دیکھا جائے گا
------------------------------

میں نے دیوار میں رکھی ہے نشانی تا کہ
میرے گھر میں میرے بندوں کو علیؑ یاد آئے
--------------------------------

لکھا ہوا تھا میرے کفن پہ علیؑ علیؑ
یہ دیکھ کر فرشتوں کے دل جھومنے لگے
پھر اُس کے بعد اپنے سوالوں کو بھول کر
منکر نکیر میرا کفن چومنے لگے
--------------------------------

جس کی طرف خدا کی عبادت ہے دیکھنا
وہ صرف کائنات میں چہرہ علیؑ کا ہے
محسن کسی صحابی کا نعرہ کوئی نہیں
مشہور کائنات میں نعرہ علیؑ کا ہے
--------------------------------

وہ لوگ ڈھونڈنے نکلے ہیں مرتضیٰؑ کا جواب 
جنہیں نہ مل سکا قنبر کی خاک پا کا جواب 
ہے ایک میرا خدا ، اِک خدا نصیری کا 
نہ اِس خدا کا جواب اور نہ اُس خدا کا جواب 

--------------------------------
خلیل اللہ خوش ہیں حسرت ذوبار ہنستی ہے 
ثمر کو دیکھ كے خود محنت بیمار ہنستی ہے 
نبیؐ اور خانہءِ کعبہ کی خوشیاں ایک جیسی ہیں 
اِدھر سرکار ہنستے ہیں اُدھر دیوار ہنستی ہے 

-------------------------------
نگاہ شوق نے 13 رجب کی شب دیکھا 
خدا کا گھر کسی مسطور كے طواف میں تھا 
دراڑ ہی پہ نہ رکتا یہ معجزہ شوکت 
ابھی تو شکر کرو كے علیؑ غلاف میں تھا 

------------------------------
یہ صبح جہاں بھر سے سہانی ہے دوستو 
عشق علیؑ کی ہَم پہ جوانی ہے دوستو 
بادل برس رہیں ہے تو کیا ہو گیا بھلا 
موسم نے بھی تو عید منانی ہے دوستو 

------------------------------
یہ انتظام رب نے کیا اہتمام سے 
پہلی نظر پڑے اسی نقش حَسِین پر 
جس کو دراڑ کہتے ہیں سارے جہاں كے لوگ 
جھومر ہے یہ خدا كے حرم کی جبین پر 

-----------------------------
کبریائی پہ پردہ کبھی پڑا ہے بھلا 
ولی كے کام نہ روکو ولی نہ آ جائے 
اسی لیے تو دراڑیں چھپائی ہیں تم نے 
تمہیں یہ ڈر ہے كہ پِھر سے علیؑ نہ آ جائے 

-----------------------------
مناؤ جشن كے کعبے میں آ رہے ہیں علیؑ
خدا كے گھر سے بتوں کو بھاگا رہے ہیں علیؑ
جدار کعبہ نے ہنس کر کہا خدا کی قسم 
مجھے طواف كے قابل بنا رہے ہیں علیؑ

-----------------------------
صدیوں كے انتظار کا کیسا صلہ دیا 
دونوں جہاں کا سَر میری جانب جھکا دیا 
تیرہ رجب علیؑ سے یہ بولا خدا کا گھر 
قبلہ مجھے تو آپ نے کعبہ بنا دیا 

---------------------------
ابھی تو بنت اسد تھیں طواف کعبہ میں
كے پتھروں پہ خوشی سے عجیب لالی تھی 
خدا کا شکر كے اِک سمت رک گئیں ورنہ 
ہر ایک سمت سے دیوار پھٹنے والی تھی 

---------------------------
سَر کفر کا ٹکرا كے جہاں چور ہوا ہے 
تعمیر پیمبرؐ کی وہ دیوار علیؑ ہے 
اب اپنے سفینے کو ہو کس بات کا خطرہ 
اِس پر محمدؐ ہے تو اُس پر علیؑ ہے 

---------------------------
علیؑ سے پہلے عبادت کا انتظام نہ تھا 
ادب رسول کا خالق کا احترام نہ تھا 
نمازیں ہوتی بھی قائم تو کس طرح ہوتیں
خدا کا گھر تو بنا تھا مگر امام نہ تھا 

----------------------------
علیؑ کا آغاز بھی علیؑ ہے 
علیؑ کا انجام بھی علیؑ ہے 
عشیر ہی سے نہ لڑ سکے تم 
غدیر سے کس طرح لڑو گے 

ہزار خرچے ہزار پردے 
کیے ہیں تم نے كہ مٹ سکے یہ 
لکیر ہی سے ڈرے ہوئے ہو 
امیر سے کس طرح لڑو گے 

-------------------------
علیؑ وہ بھی علیؑ یہ بھی یقینا 
مگر کوئی سمجھ آتا نہیں ہے 
علیؑ کی بندگی کا حُسن یہ ہے 
خدا لگتا ہے کہلاتا نہیں ہے 

-------------------------
خدا پرست وفائے امیر یاد رہے 
زمانے بھر کو نبیؐ کا وزیر یاد رہے 
سجایا جاتا ہے مسجد میں اِس لیے منبر 
نمازیوں کو بھی عید غدیر یاد رہے 

-------------------------
مسجد میں بھی علیؑ ہیں تو منبر پہ بھی علیؑ
کعبہ گواہ ہے دوش پیمبرؐ پہ بھی الیؑ
حجرت کی شب رسول كے بستر پہ بھی علیؑ
جنت علیؑ کی مِلک ہے کوثر پہ بھی علیؑ
   ہر جا علیؑ ملیں گے نہ دامن چھڑائیے
   بچنا علیؑ سے ہے تو جہنم میں جائیے 

-------------------------
ھائے پہ ستم گر كہ تیرے واسطے مولا 
ہے بولنا دشوار مگر بول رہا ہے 
یہ نعرہ حیدر نہیں ہونٹوں پہ تمہارے 
یہ ماں کی شرافت کا اثر بول رہا ہے 

-------------------------
انیسویں ہے آپ کا ماتم ہے یا علیؑ
خون ہو گیا دلوں کا یہ عالم ہے یا علیؑ
دفتر جہاں کا درہم و برہم ہے یا علیؑ
ماہ صیام ماہ محرم ہے یا علیؑ
   مولا کی نظر کرنے کو یہ اشک لائے ہیں
   ہَم روزہ دار آپ كے پرسے کو آئے ہیں 

-------------------------
فرشتے جب ہمیں روز قیام لے كے چلے 
سفارشوں کا بڑا اہتمام لے كے چلے 

ہر ایک قوم كے تھا ساتھ صرف ایک امام 
ہَم اپنے ساتھ میں بارہ امام لے كے چلے 

----------------------------
شامل ہماری طرح محبوں میں ہو گئی 
خود کو بلند ایسے کیا ہے نماز نے 
ہر شب نماز پڑھتے تھے میرے علیؑ مگر 
حجرت كے شب علیؑ کو پڑھا ہے نماز نے 

----------------------------
مے خوار ہوں گر چہ نہ جنت میں جا سکون 
ممکن ہے بعد مرگ ہی کچھ کام آ سکون 
ایندھن بنا دے مجھ کو جہنم کا اے خدا 
میں دشمنِ علیؑ كے کلیجے جلا سکون 

---------------------------
جو شخص محفل حیدرؑ میں جا نہیں سکتا 
علیؑ كے نام کا نعرہ لگا نہیں سکتا 
علیؑ كے بیٹے اگر اِجازَت نہیں دیں تو 
کسی کا باپ بھی جنت میں جا نہیں سکتا 

----------------------------
فرش پہ اترا ہوا عرش بریں کا چاند
چاند رہتا ہے جہاں پر وہیں کا چاند
معجزے کے منکرو کعبے میں آ کر دیکھ لو
تیرھویں کی رات ہے اور چودھویں کا چاند ہے


خلیل اللہ خوش ہیں حسرت ذوبار ہنستی ہے 
ثمر کو دیکھ كے خود محنت معمار ہنستی ہے 
نبیؐ اور خانہءِ کعبہ کی خوشیاں ایک جیسی ہیں 
اِدھر سرکار ہنستے ہیں اُدھر دیوار ہنستی ہے


غدیرِ خم سے کسی شخص کی جو دوری ہے 
حیات اُس کی مکمل نہیں ادھوری ہے 
کہانی دین کی کب اِس سے ہٹ كے پوری ہے 
ولایتِ علی ہر حال میں ضروری ہے 
   یہی وہ پُل ہے كے جس سے گزارا جائے گا 
   بغیر اِس كے عمل منه پہ مارا جائے گاا

خدا كے گھر میں آنا تھا ابو طالبؑ كے بیٹے کو 
نہ ہوتا یہ تو ہر منظر پس منظر میں آ جاتا 
اگر بنت اسدؑ بیت خدا کی سمت نہ آتیں
سمٹ کر خانہءِ کعبہ علیؑ كے گھر میں آ جاتا

جدارِ خانہءِ کعبہ كے پتھر 
علیؑ كے عشق میں ٹوٹے پڑے ہیں 
نہ روکا راسته بنتِ اسدؑ کا 
مسلمانوں سے یہ پتھر بڑے ہیں

علیؑ کی منقبت جاری ہے رک جاؤ ابھی ٹھرو
مکمل ہونے دو اِک اِک کا چہرہ دیکھا جائے گا
نمازیں مار کر منہ پر کہا اللہ نے بندے
یہ محشر ہے یہاں پہلے عقیدہ دیکھا جائے گا

جس کی طرف خدا کی عبادت ہے دیکھنا
وہ صرف کائنات میں چہرہ علیؑ کا ہے
محسن کسی صحابی کا نعرہ کوئی نہیں
مشہور کائنات میں نعرہ علیؑ کا ہے

وہ لوگ ڈھونڈنے نکلے ہیں مرتضیٰؑ کا جواب 
جنہیں نہ مل سکا قنبر کی خاک پا کا جواب 
ہے ایک میرا خدا ، اِک خدا نصیری کا 
نہ اِس خدا کا جواب اور نہ اُس خدا کا جواب


خلیل اللہ خوش ہیں حسرت ذوبار ہنستی ہے 
ثمر کو دیکھ كے خود محنت معمار ہنستی ہے 
نبیؐ اور خانہءِ کعبہ کی خوشیاں ایک جیسی ہیں 
اِدھر سرکار ہنستے ہیں اُدھر دیوار ہنستی ہے

نگاہ شوق نے 13 رجب کی شب دیکھا 
خدا کا گھر کسی مسطور كے طواف میں تھا 
دراڑ ہی پہ نہ رکتا یہ معجزہ شوکت 
ابھی تو شکر کرو كے علیؑ غلاف میں تھا
========================================

علیؑ کی شان میں یوں تو بہت کچھ کہہ گئے شاعر
علیؑ کا مرتبہ جو ہے اُسے دنیا نے کب جانا
کئی صدیوں سے کرتے آئے ہیں توصیف حیدرؑ کی
حقیقت یہ ہے اے نیساں ، نہ تب جانا نہ اب جانا

دِل كے قلم کی جملہ عبارت علیؑ كے نام 
میرا ہر ایک حرف عقیدت علیؑ كے نام 
قوسین تک ملے ہیں محمد كے نقش پا 
اور اس كے آگے ساری مسافت علیؑ کی نام 
جیسی طلب ہو ویسے لقب سے پکاریے 
رکھے گئے ہیں حسب ضرورت علیؑ كے نام 

جن کو رسول نے سرِ ممبر نہیں پڑھا 
ایسے بھی کچھ قصیدے ہیں حضرت علیؑ كے نام

ان مسجدوں کو کعبے نے منسوخ کر دیا 
تیرہ رجب کو جن میں اجالا نہیں ہوا

----------------------------------
شام اِسرا پہ نظر کی ہے تو پھر عاشور بھی دیکھ 
صرف راتیں ہی نہیں دن بھی بڑے ہوتے ہیں
اِس طرح زینبِؑ دلگیر ہیں سجادؑ كے ساتھ 
جیسے بیمار كے ھاتھوں میں عصا ہوتا ہے

------------------------------------

علیؑ کا ذکر عبادت کا مزہ دیتا ہے 
علیؑ کا نام تلاوت کا مزہ دیتا ہے 

نصیری جب میرے مولاؑ کو خدا کہتا ہے 
جھوٹ ہوتا ہے مگر سچ کا مزہ دیتا ہے

---------------------------------

علیؑ کی منقبت جاری ہے رک جائو ابھی ٹھہرو 
مکمل ہونے دو اِک اِک کا چہرہ دیکھا جائے گا 

نمازیں مار کر منه پر کہا اللہ نے بندے 
یہ محشر ہے یہاں پہلے عقیدہ دیکھا جائے گا 
--------------------------------

علیؑ اِس قلب سے جاتا نہیں ہے 
مگر اِدراک میں آتا نہیں ہے 
علیؑ کیا ہے جلی سے کیا تعلق 
خدا لگتا ہے کہلاتا نہیں ہے 

--------------------------------
نصیری اور میں دونوں علیؑ سے عشق کرتے ہیں 
علیؑ کیا ہے پتہ دونوں کو ہی واللہ نہیں لگتا 
علیؑ انسان اور یزدان كے ماں بین ہی کچھ ہے 
اسے بندہ نہیں لگتا مجھے اللہ نہیں لگتا 

------------------------------
شمس و قمر نجوم تجلّیٰ علیؑ کا ہے 
جو کچھ ہے کائنات میں واللہ علیؑ کا ہے 
دیوار ، در ، دڑار ہٹا اِن پہ غور کر 
محسوس ہو رہا ہے كے اللہ علیؑ کا ہے 

----------------------------------
علیؑ کے لال پیمبرؐ کے چین زندہ باد
جنابِ فاطمہؑ کے نورِ عین زندہ باد
ہے جس کا پاک لہو بس وہی پکارے گا
ہر ایک کہہ نہیں سکتا حسینؑ زندہ باد

------------------------------------
،اللہ کو اُس کا ولی مبارک،
،رسول ؐ کو وصی مبارک
،جناب سیدہؑ کو کفو مبارک
،حشنینؑ کو اپنا بابا مبارک
،آپ کو اپنا امیر مبارک
تو پڑے بھائیوں کو چوتھا خلیفہ مبارک
۔صوفی کو ولی مبارک۔
۔ایلیا، اُم،شیرو مبارک۔
۔۔۔ یعنی جو جوبھی جو کچھ مانتا ہے اُس کو اُس کے مطابق اُس کا علیؑ مبارک

ذکر حیدرؑ کا چھڑا جب بھی ثناء خوانوں میں
جام مدحت کے چلے مسجد و مے خوانوں میں
خم میں بخن بھی انہوں نے دبے لفظوں میں کہا
جن کے ارمان دبے رہ گئے پالانوں میں
--------------------------------------

غدیرِ خم سے کسی شخص کی جو دوری ہے 
حیات اُس کی مکمل نہیں ادھوری ہے 
کہانی دین کی کب اِس سے ہٹ كے پوری ہے 
ولایتِ علی ہر حال میں ضروری ہے 
   یہی وہ پُل ہے كے جس سے گزارا جائے گا 
   بغیر اِس كے عمل منه پہ مارا جائے گا 
----------------------------------

خم کے میدان میں منبر کو سجایا جائے
میرا ہمنام وہاں مولا بنایا جائے
تو نے معراج پہ دیکھا تھا جو محبوب میرے
کیوں نہ وہ ہاتھ زمانے کو دکھایا جائے
----------------------------

مولا علیؑ ولی کی ولایت کو بانٹ کر
مجھ پر میرے رسولؐ نے احسان کر دیا
مشکل بہت تھا فرق حلال و حرام کا
یہ فرق بھی غدیر نے آسان کر دیا

اک تو شدت دھوپ میں تھی
 دوسری اعلان میں۔۔
دو طرح سے جل گئے 
کچھ لوگ ریگستان میں


علیؑ کا ذکر عبادت کا مزہ دیتا ہے 
علیؑ کا نام تلاوت کا مزہ دیتا ہے 

نصیری جب میرے مولاؑ کو خدا کہتا ہے 
جھوٹ ہوتا ہے مگر سچ کا مزہ دیتا ہے


کہا غدیر پہ خالق نے مصطفٰیؐ سے کہ ہم
علیؑ کے ذکر پہ نعمت تمام کرتے ہیں