Qataat - Janab e Fatima(sa)
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

جشن اسطرح سے زہراؑ کا منایا جائے
آسمانوں کو زمینوں پہ بچھایا جائے
روک کر حضرتِ جبریلؑ کو بولیں فضہؑ
بیتِ زہراؑ ہے یہاں پوچھ کے آیا جائے
===================================

فاطمہ زہراؑ یہ تیری تربیت کی شان ہے 
كہ بچہ بچہ تیرے گھر کا بولتا قرآن ہے 

باپ سے پہچان ہر بیٹی کی ہوتی ہے مگر 
یہ وہ بیٹی ہے جو اپنے باپ کی پہچان ہے
--------------------------------

حد شعور نبوت میں جو سما نہ سکے 
بلند اتنی بلندی بھی جس کو پا نہ سکے 
علیؑ ہیں وہ كہ محمدؐ جنہیں سمجھ جائیں 
بتولؑ وہ جو کسی کی سمجھ میں آ نہ سکے
===================================

مومن کی زندگی کا یہ دستور کر دیا 
دِل سے علی كے عشق کو معمور کر دیا 
حق نے کرم کیا كے گناہوں كے باوجود 
زہرہ كے دشمنوں سے مجھے دور کر دیا 

======================================
کیا ہے رب اکبر نے کہیں بھی ذکر جب تیرا 
کہیں عزت کہیں عصمت کہیں تطہیر دین لکھا 
اُسے معلوم تھا اِس کو ہر اک انسان نے چھونا ہے 
تبھی تو اس نے قرآن میں کہیں زہراؑ نہیں لکھا 

=====================================
جب حُر چلا تھا باندھ كے رومالِ فاطمہؑ
تاریخ نے وہ لمحہ لیا سال بیچ کر 
ھاتھوں کو جوڑ کر یہی کہتا تھا ہر نبیؑ
اے حُر ہمیں خرید لے رومال بیچ کر 

=====================================
بیٹے ہیں تیرے ہیں خلد کے سردار فاطمہؑ
ہے ور تیرا مصطفیؐ کا مددگار فاطمہؑ
میں کیا لکھوں گا شان تیری جب كہ خدا نبیؐ
اٹھتے تیری تعظیم کو کئی بار فاطمہؑ

=====================================
جشنِ زہرہ مبارک ہو اے مومنو 
آج بگڑا نصیبا نکھر جائے گا 
کھل گیا باب رحمت دعا مانگ لو 
سب کا دامن مرادوں سے بھر جائے گا 

=====================================
ہوتی نہ گر بتولؑ تو بنتی نہ کائنات 
امکان کا وجود ہی زہراؑ کی بھیک ہے 
ہوتے نا گر علیؑ تو نہ تھا کفو بتولؑ کا 
بعد از خدا حسینؑ کی ماں لا شریک ہے 

=====================================
عقل کی جاگیر میں ہے اک پہیلی فاطمہؑ
گھر علیؑ كے ہے یداللہ کی ہتھیلی فاطمہؑ
صدق كے میدان میں جانے لگے ہیں پنجتنؑ
چار مردوں كے برابر ہے اکیلی فاطمہؑ

=================================
زہرہ كے دشمنوں كے مقدر سے خوف کھا 
دوزخ بھی اِن كے جرم کی پوری سزا نہیں 

محشر میں مریدوں سے یہ اُستاد کہیں گے 
ہَم خود ہی پریشاں ہیں تمہیں اپنی پڑی ہے 
جائیں تو کہاں جائیں حق چینا تھا جس کا 
دروازہءِ جنت پہ وہی بی بی کھڑی ہے 
============================

کیسے بیاں ہو تیرے کمالات فاطمہؑ
کب ہیں شمار میں تیری نعمات فاطمہؑ
دلہن نبیؐ کی لاڈلی دولہا خدا کا لال 
کیا عرش پر چڑھی تیری بارات فاطمہؑ

پڑتی نماز منه پہ ہے پھرتے ہیں اُن كے منه 
تجھ پر جو بھیجتے نہیں صلواۃ فاطمہؑ
میں ان بھکاریوں کو غنی کس طرح کہوں 
جو لوگ کھا گئے تیرے باغات فاطمہؑ

ممکن نہیں کہ میں رضی اللہ کہوں اُنہیں
کرتی رہی ہیں جن کی شکایات فاطمہؑ
-------------------------------

مریم سے بھی بتولؑ کو رتبہ سوا ملا 
بابا اسے رسولؐ سا خیر الوارا ملا 
بیٹا ہر اِک شہیدِ رہِ کبریا ملا 
شوہر ملا تو خلق کا مشکل كشا ملا 
   ہر ایک اپنے مرتبے میں انتخاب ہے 
   زہراؑ ہیں بے مثال علیؑ لاجواب ہے
--------------------------------