Teri ummat ke zewar pahan kar dekho nana chali hoon may Shaam
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi



شام ہائے شام
تیری امت کے زیور پہن کر دیکھو نانا چلی ہوں میں شام

میں دیتی کفن تجھ کو بھیا
گر سر پہ ردا میرے ہوتی
گر ہوتے کھلے ہاتھ میرے
تیرے زخموں کو ہاتھوں سے دھوتی
پابند رسن سر برہنہ
دیکھو نانا چلی ہوں میں شام

تیرے بچوں کو لے کر گئی میں
شب بھر ساری روتی رہی ہو ں
کبھی غازیؑ کا لہجہ بدل کر
میں پہرے بھی دیتی رہی ہوں
ان بیوہ بہو بیٹیوں سے
کیوں کرتے نہیں ہو کلام

میرے عابدؑ پہ طاری غشی تھی
اور کلثومؑ سہمی کھڑی تھی
کبھی دیکھوں میں زخمی سکینہؑ
جس کے دامن میں آگ لگی تھی
کبھی روؤں میں اپنی ردا کو
کبھی دیکھوں میں جلتے خیام

ہائے نانا میں کیسے سناؤں
دربار شقی کا وہ منظر
سبھی قاری و حافظ تھے بیٹھے
اور سر پہ نہ تھی میرے چادر
ہائے نانا تیری بیٹیوں کو
یوں لائے ہیں سر ننگے عام

جس زینبؑ کو تم نے برادر
کبھی نظریں اٹھا کر نہ دیکھا
ہاتھ رسی میں میرے بندھے ہیں
اور سر پر نہیں میرے چادر
کیسے کوفے میں جاؤں گی غازی
جب مجمع میں آئے گا نام