شام ہائے شام
تیری امت کے زیور پہن کر دیکھو نانا چلی ہوں میں شام
میں دیتی کفن تجھ کو بھیا
گر سر پہ ردا میرے ہوتی
گر ہوتے کھلے ہاتھ میرے
تیرے زخموں کو ہاتھوں سے دھوتی
پابند رسن سر برہنہ
دیکھو نانا چلی ہوں میں شام
تیرے بچوں کو لے کر گئی میں
شب بھر ساری روتی رہی ہو ں
کبھی غازیؑ کا لہجہ بدل کر
میں پہرے بھی دیتی رہی ہوں
ان بیوہ بہو بیٹیوں سے
کیوں کرتے نہیں ہو کلام
میرے عابدؑ پہ طاری غشی تھی
اور کلثومؑ سہمی کھڑی تھی
کبھی دیکھوں میں زخمی سکینہؑ
جس کے دامن میں آگ لگی تھی
کبھی روؤں میں اپنی ردا کو
کبھی دیکھوں میں جلتے خیام
ہائے نانا میں کیسے سناؤں
دربار شقی کا وہ منظر
سبھی قاری و حافظ تھے بیٹھے
اور سر پہ نہ تھی میرے چادر
ہائے نانا تیری بیٹیوں کو
یوں لائے ہیں سر ننگے عام
جس زینبؑ کو تم نے برادر
کبھی نظریں اٹھا کر نہ دیکھا
ہاتھ رسی میں میرے بندھے ہیں
اور سر پر نہیں میرے چادر
کیسے کوفے میں جاؤں گی غازی
جب مجمع میں آئے گا نام
جیسے دربار پاس آ رہا ہے
میرا دل ڈوبتا جا رہا ہے
میں تو گھر میں بھی کم بولتی تھی
بھائی تم کو تو سب کچھ پتا ہے
کس طرح سے کرے گی بتا دو
اَک شرابی سے زینبؑ کلام
جب روتی تھی بالی سکینہ
اور بابا کو اپنے بلاتی
میں دیتی تھی اُس کو تسلی
اور سینے پہ اپنے سلاتی
ڈھونڈ زندان میں معصوم بچی
لے لے کے وہ بابا کا نام