Chalo Hussain(a.s.) tumhay Karbala bulati hay
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

چلو حسین تمہیں کربلا بُلاتی ہے
صدائے فاطمہ زہرلحد سے آتی ہے

 
طواف کرتا تھا جِس گھر کا خانہ کعبہ 
کہ حاجیوں کی جماعت وہ گھر جِلاتی ہے

 
قدم حسین اُٹھاتے ہیں سوُئے کرب و بلا 
قدم سے لُپٹی ہوئی کائنا ت جاتی ہے


خبرہے شام غِریبا ں تیرے اِندھیرے کو 
نبی کے روُضے پہ صغرا دیئے جِلاتی ہے

 
بِتا اِے ماہِ محرم یہ کون بی بی  ہے 
وہ بال کھُول کے بس چاند دیکھے جاتی ہے

 
یہ کون بی بی  ہے اور کِس کی راہ تکتی ہے 
نہ موُت آتی ہے اِس کو نہ نیند آتی ہے

 
نوید کیا ہوُا لبیک کیوں نہیں کہتے 
صداتو دشت سے ہل مِن کی اِب بھی آتی ہے