رسن میں بندھ چکا گلا لو چل پڑا وہ قافلہ
بہن غریب نوحہ گر سناں پہ جب پڑی نظر
خاموش تھے شہید سب اخی کے ہل رہے تھے لب
سناں پہ ہوں تو کیا ہوا تُو حوصلہ نہ ہارنا
بہن میں ساتھ ساتھ ہوں
غریبِ کربلا بہن
دلیرو باوفا بہن
غموں کی علقمہ بہن
میری مسافرہ بہن
تُو حوصلہ نہ ہارنا
سناں پہ ہوں تو کیا۔۔۔
بہن میں ساتھ۔۔۔
وفا ئے وعدہ ہوچکا
سناں تلک میں آگیا
میں اپنا کام کرچکا
میری شریکِ کربلا
تُو حوصلہ نہ ہارنا
سناں پہ ہوں تو کیا۔۔۔
بہن میں ساتھ۔۔۔
یہ رسیاں یہ بیڑیاں
قدم قدم پہ سختیاں
ردا بغیر بیبیاں
بہن کڑاہے امتحاں
تُو حوصلہ نہ ہارنا
سناں پہ ہوں تو کیا۔۔۔
بہن میں ساتھ۔۔۔
اگر ہے راستہ کٹھن
ذرا نہ ڈر میری بہن
تُو بے ردا میں بے کفن
ہے وقت حوصلہ شکن
تُو حوصلہ نہ ہارنا
سناں پہ ہوں تو کیا۔۔۔
بہن میں ساتھ۔۔۔
قدم قدم شہادتیں
گزر گئیں قیامتیں
ابھی ہیں اور آفتیں
سنبھال اب امانتیں
تُو حوصلہ نہ ہارنا
سناں پہ ہوں تو کیا۔۔۔
بہن میں ساتھ۔۔۔
کوئی بھی اب نہیں بچا
بس عابدِ شکستہ پا
یہ ساریبانِ غم زدا
گرے جو کھا کے غش زرا
تُو حوصلہ نہ ہارنا
سناں پہ ہوں تو کیا۔۔۔
بہن میں ساتھ۔۔۔
بہن ٹھہرٹھہر یہیں
لرز رہی ہے کیوں زمیں
سکینہ گرگئی کہیں
نہ مِل سکے جو وہ حزیں
تُو حوصلہ نہ ہارنا
سناں پہ ہوں تو کیا۔۔۔
بہن میں ساتھ۔۔۔
بہت قریب شام ہے
ہجومِ خاص وعام ہے
یزید بد کلام ہے
یہ وقتِ انتقام ہے
تُو حوصلہ نہ ہارنا
سناں پہ ہوں تو کیا۔۔۔
بہن میں ساتھ۔۔۔
ریحان وسرورِعزا
جو شام پہنچا قافلہ
سرِ حسین نے کہا
اُلٹ دے تخت شام کا
تُو حوصلہ نہ ہارنا
سناں پہ ہوں تو کیا۔۔۔
بہن میں ساتھ۔۔