بازار کے منظر کو اور اپنے کھلے سرکو بھولی نہیں میں
اپنے بندھے ہاتھوں کو بیمار کے زیور کو بھولی نہیں میں
اٹھتی ہوئی آندھی کو، محشر کو بیاباں کو
چُھپتے ہو ئے سورج کو، تاریکی کو میداں کو
چلتے ہو ئے خنجر کو، نیزے پہ تیرے سر کو
بھولی نہیں میں
اِک چاند تھا بدلی میں، چھپتا تھا نکلتا تھا
پردہ درِ خیمہ کا، اٹھتا کبھی گرتا تھا
وہ خیمِہءِ لیلیٰ سے، ہائے رخصتِ اکبرؑ کو
بھولی نہیں میں
یاد آتا ہے دلہن کو، غش کس طرح آئے تھے
اِک گٹھری شِہ والا، جب کاندھوں پہ لائے تھے
اُس لاش کی گٹھری کو، اُس خوں بھری چادر کو
بھولی نہیں میں
لہراتے ہو ئے نیزہ، ہئے شمر کا وہ بڑھنا
آ آ کے میرے پیچھے، ہر بی بی کا وہ چُھپنا
شعلوں میں گھرے گھر کو، چھنتی ہوئی چادر کو
بھولی نہیں میں
معصوم سکینہؑ کو، بڑھتے ہو ئے نیزوں کو
رِستے ہو ئے گالوں کو، بے رحم تمانچوں کو
دُکھتے ہو ئے کانوں کو، کھنچتے ہو ئے گوہر کو
بھولی نہیں میں
جس رات میں تنہا تھی، اُس رات کے ڈھلنے کو
ٹو ٹے ہو ئے نیزے کو، اُس رات کے پہرے کو
بچوں کے سسکنے کو، اور راکھ کے بستر کو
بھولی نہیں میں
اُن شام کی گلیوں کو، جن سے کھلے سر گزرے
جس درسے گزر نے میں، یہ سُولہ پہر گزرے
دربار کے اُس در کو، اور شامیوں کے شر کو
بھولی نہیں میں
ہے آج بھی وہ گریا، ہے آج بھی وہ زاری
ہے آج بھی پتھر کے، سینے سے لہو جاری
رو تے ہو ئے پتھر کو، پتھر پہ رکھے سر کو
بھولی نہیں میں
فضّہ کو میرا بھائی، ماں کہہ کے بلاتا تھا
دم اس کا میرے بھائی، کے نام پہ جاتا تھا
رتبے میں جو ماں بن کر، آئی اُس مادرکو
بھولی نہیں میں
یاد آتا ہے اِک ماں کا، وہ خاک میں دھنس جانا
اور آگ کے شعلوں میں، وہ ماں کا جُھلس جانا
جلتے ہو ئے جھو لے سے، لپٹی ہوئی مادر کو
بھولی نہیں میں
آتی ہے نوید اب بھی، آواز یہ زینبؑ کی
ہے مجھ کو قسم صدیوں، سے سوکھے ہو ئے لب کی
پیاسے علی اصغرؑ کو، سوکھے ہو ئے ساغَر کو
بھولی نہیں میں