کیا اندھیرا ہے پھوپی
کیا اندھیرا ہے پھوپی
قید خانے میں سکینہؑ یہ بیاں کرتی تھی
شمع منگوائیے ورنہ میں نہیں جینے کی
کیا اندھیرا ہے پھوپی
اپنے سینے سے لگالو میں تمہارے صدقے
گود میں لےلو مجھے
دل دھڑکتا ہے میرا خوف سے تھراتا ہے جی
کیوں لعیں قید میں لائے ہیں مجھے کیا معلوم
ہائے بابا مظلوم
گئے میدان کو جس دن سے خبر میری نہ لی
بابا آجاتے تو پھر شمر کو ہوتا معلوم
کون ہے یہ معصوم
کیاسمجھ کر مجھے یوں گھڑکیاں دیتا ہے شقی
آج کی شب کو بھی کیا بابا نہیں آئینگے
مجھکو تڑپائینگے
انکے سینے پے اگر سوتی تو نیند آجاتی
بعد میرے جو یہاں ہووے پدر کا آنا
اُن سے یہ فرمانا
مر گی گھٹ کے اندھیرے مے تمہاری بیٹی
صبر کرتی ہوں مگر ہو نہیں سکتا مجھ سے
یاں سے لے چلئےمجھے
ورنہ پچھتاؤ گی زندہ نہ رہونگی میں کبھی
پانی لانے کو کہاں روٹھ گئے مجھ سے چچاؑ
آپ ہی سوچیں ذرا
ہوتے عموؑ تو میں اس طرح تمانچے کھاتی