بازار ہے پتھر ہیں زینب کا کھلا سر ہے
ہر زخم پہ شکرانہ زینب کے لبوں پر ہے
اک گریہِ خونیں کی جاتی ہی نہیں لالی
سجاد کی آنکھوں کو دیکھا ہی نہیں خالی
یا خون ہے آنکھوں میں یا شام کا منظر ہے
وہ قلب تھے کیسے جو جاں لے گئے سرور کی
پتھر تو وہ ہے جس نے پتھر کی حیا رکھی
اے سنگِ حلب تجھکو کیسے کہوں پتھر ہے
لٹکا درِ کوفہ پر دیکھا ہے کوئی لاشہ
کیوں چوب سے محمل کی زینب نے ہے سر مارا
اے وقت لہو سے کیوں زینب کی جبیں تر ہے
جو بڑھ کے ہر اک دُرّا خود پُشت پہ کھاتی ہے
خود خوں میں نہاتی ہے زینب کو بچاتی ہے
ہاں یہ ہے وہی فصّہ قنبر کی جو ہمسر ہے
یہ شورِ بُکا کیا ہے ماتم کی صدا کیا ہے
توحید بچائے جو وہ کرب و بلا کیا ہے
یا ہے سرِ سرور یا زینب تیری چادر ہے
کیوں ہائے حسینہٰ کا اک شور سا اٹھتا ہے
سر غازی کا نیزے سے کیوں خاک پہ گرتا ہے
غازی کی بہن شاید بلوے میں کھلے سر ہے
لے شامِ غریباں سے پُر حول بیاباں تک
بازار سے کوفہ تک دربار سے زنداں تک
بے رحم طمانچے ہیں اور شاہ کی دختر ہے
مقتل نے خدا جانے کیا چھین لیا اس کا
اک ہاتھ کلیجے پر رہتا ہے دھرا جسکا
لگتا ہے مجھے شاید یہ مادرِ اکبر ہے
ٹکراتی ہے سر اپنا جائے تو کہاں جائے
معصوم سکینہ کو غش آئے کہ موت آئے
اُس کے لئے زنداں میں بس خاک کا بستر ہے
اک کرب و بلا اوّل اک کرب وبلاآخر
کہتے ہیں نوید اُس کو شبیر جو ہے ظاہر
اور جو پسِ پردہ ہے وہ زینبِ مضطر ہے