Bazaar hain pathar hain Zainab ka khula sar hay
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi



بازار ہے پتھر ہیں زینب کا کھلا سر ہے
ہر زخم پہ شکرانہ زینب کے لبوں پر ہے

اک گریہِ خونیں کی جاتی ہی نہیں لالی
سجاد کی آنکھوں کو دیکھا ہی نہیں خالی
یا خون ہے آنکھوں میں یا شام کا منظر ہے

وہ قلب تھے کیسے جو جاں لے گئے سرور کی
پتھر تو وہ ہے جس نے پتھر کی حیا رکھی
اے سنگِ حلب تجھکو کیسے کہوں پتھر ہے


لٹکا درِ کوفہ پر دیکھا ہے کوئی لاشہ
کیوں چوب سے محمل کی زینب نے ہے سر مارا
اے وقت لہو سے کیوں زینب کی جبیں تر ہے


جو بڑھ کے ہر اک دُرّا خود پُشت پہ کھاتی ہے
خود خوں میں نہاتی ہے زینب کو بچاتی ہے
ہاں یہ ہے وہی فصّہ قنبر کی جو ہمسر ہے

یہ شورِ بُکا کیا ہے ماتم کی صدا کیا ہے
توحید بچائے جو وہ کرب و بلا کیا ہے
یا ہے سرِ سرور یا زینب تیری چادر ہے

کیوں ہائے حسینہٰ کا اک شور سا اٹھتا ہے
سر غازی کا نیزے سے کیوں خاک پہ گرتا ہے
غازی کی بہن شاید بلوے میں کھلے سر ہے

لے شامِ غریباں سے پُر حول بیاباں تک
بازار سے کوفہ تک دربار سے زنداں تک
بے رحم طمانچے ہیں اور شاہ کی دختر ہے

مقتل نے خدا جانے کیا چھین لیا اس کا
اک ہاتھ کلیجے پر رہتا ہے دھرا جسکا
لگتا ہے مجھے شاید یہ مادرِ اکبر ہے

ٹکراتی ہے سر اپنا جائے تو کہاں جائے
معصوم سکینہ کو غش آئے کہ موت آئے
اُس کے لئے زنداں میں بس خاک کا بستر ہے

اک کرب و بلا اوّل اک کرب وبلاآخر
کہتے ہیں نوید اُس کو شبیر جو ہے ظاہر
اور جو پسِ پردہ ہے وہ زینبِ مضطر ہے