As Salam o Alaika Ya Syeda
Efforts: Mrs. Nighat Rizwan



السلامُ علیک یا سیدہؑ
ہائے پردیس میں لٹ گئی ہے بہن
ہائے بھائی میرا رہ گیا بے کفن
السلامُ علیک یا سیدہؑ

بلوئے عام ہے سر پہ چادر نہیں
بھائی کے خوں سے سرخ ہے یہ زمیں
ہائے باندھی گئی بازؤں میں رسن
ہائے پردیس میں لٹ گئی ہے بہن
ہائے بھائی میرا رہ گیا بے کفن
السلامُ علیک یا سیدہؑ 

ہر مصیبت کو تنہا اٹھاتی ہوں میں
مجھ کو رخصت کرو شام جاتی ہوں میں
تازیانوں سے زخمی ہے میرا بدن 
ہائے پردیس میں لٹ گئی ہے بہن
ہائے بھائی میرا رہ گیا بے کفن
السلامُ علیک یا سیدہؑ 

حشر تک ہم کو روئے گی کرب وبلا
ہائے اہل حرم ہو گئے بے ردا
ہو گیا رن میں برباد میرا چمن
ہائے پردیس میں لٹ گئی ہے بہن
ہائے بھائی میرا رہ گیا بے کفن
السلامُ علیک یا سیدہؑ 

ہائے اجڑی بہن کی ہے حسرت یہی
بھائی کی لاش پر ہائے رو نہ سکی
بے کفن بھائی ہے اور میں بے وطن
ہائے پردیس میں لٹ گئی ہے بہن
ہائے بھائی میرا رہ گیا بے کفن
السلامُ علیک یا سیدہؑ 

میرے عون و محمد مارے گئے
اور سکینہؑ کے گوہر اتارے گئے
میرے غازیؑ کا ٹکڑے ہوا ہے بدن
ہائے پردیس میں لٹ گئی ہے بہن
ہائے بھائی میرا رہ گیا بے کفن
السلامُ علیک یا سیدہؑ 

ہائے اکبر ؑ کا سینہ بھی چھلنی ہوا 
فرش سے عرش تک ایک کہرام تھا
لاش اکبرؑ کی لائے جو شاہ زمن
ہائے پردیس میں لٹ گئی ہے بہن
ہائے بھائی میرا رہ گیا بے کفن
السلامُ علیک یا سیدہؑ 

میرے غازی ؑ کے بازو ہوئے جو قلم
خون میں در بدر تھا جری کا علم
بے اماں ہو گئی بنت خیبر شکن
ہائے پردیس میں لٹ گئی ہے بہن
ہائے بھائی میرا رہ گیا بے کفن
السلامُ علیک یا سیدہؑ 

ہائے اصغرؑ کا جھولا جلایا گیا
پانی تیروں سے اس کو پلایا گیا
خاک پر سو گیا ہائے تشنہ دہن
ہائے پردیس میں لٹ گئی ہے بہن
ہائے بھائی میرا رہ گیا بے کفن
السلامُ علیک یا سیدہؑ 

سلسلہ شہؑ کے ماتم کا جاری رہے
آخری سانس تک پرسہ داری رہے
ہو زباں پر محب یاحسین و حسن
ہائے پردیس میں لٹ گئی ہے بہن
ہائے بھائی میرا رہ گیا بے کفن
السلامُ علیک یا سیدہؑ 

======================================
ہائے رنگلی جوانی اکبرؑ دی
ہائے تشنہ دہانی اصغرؑ دی
جیڑی بن وچ ہوئی اے فنا سیدہ

تو تے بچڑی مشکل کشاء دی اے
نانے دا دین بچا سیّدہ

مینڈا سر کٹیا تینڈا گھر لٹیا
دوویں لٹ گئے بھینڑ بھرا سیّدہ

رو لاش حسینؑ دی آندی اے
مینڈی دھی کوں سینے لا سیّدہ