یوں عالمِ غربت میں یارب نہ لٹے کوئی
دریا کے قریب آ کر پیاسا نہ رہے کوئی
اکبرؑ کی جوانی پر خود روئی جوانی بھی
ارمان کسی ماں کے دل میں نہ رہے کوئی
یہ کہہ کے گری زینبؑ شبیرؑ کے لاشے پر
بے گور و کفن لاشہ بن میں نہ رہے کوئی
کٹتی ہوئی گردن سے آتی تھی صدا پیہم
یوں پیاسے کی گردن پر خنجر نہ چلے کوئی
بازار میں کوفے کے زینبؑ نے دعا مانگی
یوں پردہ نشیں یارب در در نہ پھرے کوئی