خُدا حافظ ہے رُخصت کی گھڑی
اے کربلا والو خُدا حافظ
سلامِ آخری اے کربلا والو خُدا حافظ
نہ ہم سے ہو سکا کچھ بھی ادا حق میزبانی کا
ہے یہ شرمندگی
اے کربلا والو خُدا حافظ
تمہارے ساتھ زہرا بھی یہاں تشریف لائی تھی
یہ عزت بھی ملی
اے کربلا والو خُدا حافظ
ہمارے گھر کی رونق بھی تمہارے ساتھ جاتی ہے
اُداسی چھا گئی
اے کربلا والو خُدا حافظ
تمہارے غم میں روتے روتے مر جاتے تو اچھا تھا
یہ حسرت رِہ گئی
اے کربلا والو خُدا حافظ
کسی صورت بہلتا ہی نہیں دل کیسے بہلائے
عجب ہے بے کلی
اے کربلا والو خُدا حافظ
پھر اگلے سال ہم یونہی صفِ ماتم بچھائیںگے
رہی گر زندگی
اے کربلا والو خُدا حافظ