بہہ رہا ہے خو ںکا دریا لاشہِ شبیرؑ سے
پانی پانی کی صدا آتی ہے زخمِ تیر سے
بہہ رہا ہے خو ںکا دریا لاشہِ شبیرؑ سے
لاشہِ اکبرؑ پڑا ہے خون میں ڈوبا ہوا
کہہ دو واپس لوٹ جائیں قاصدِ ہمشیر سے
بہہ رہا ہے خو ںکا دریا لاشہِ شبیرؑ سے
کربلا کے دشت میں تھا جرم پانی مانگنا
ہو گئے خاموش اصغر حُرملا کے تیر سے
بہہ رہا ہے خو ںکا دریا لاشہِ شبیرؑ سے
جس کے بوسے لے کے ملتا تھا محمدؐ کو سکوں
وہ گُلو کاٹا گیا ہے آج کُند شمشیر سے
بہہ رہا ہے خو ںکا دریا لاشہِ شبیرؑ سے
سر برہنہ ہو گئی ہیں لُٹ گئی ہیں چادریں
جن کو ڈھانپا تھا نبی نے چا درِ تطہیر سے
بہہ رہا ہے خو ںکا دریا لاشہِ شبیرؑ سے
شام میں جاؤ گی ننگے سر میرے مرنے کے بعد
ہو کے رخصت کہہ رہے تھے شاہِ دیں ہمشیر سے
بہہ رہا ہے خو ںکا دریا لاشہِ شبیرؑ سے
آئے ہیں اہلِ حرم گُلزار کیوں دربار میں
عابدِ بیمارؑ ہیں جکڑے ہوئے زنجیر سے
بہہ رہا ہے خو ںکا دریا لاشہِ شبیرؑ سے