Chand nikla hay Muharram ka to tanha Sughra
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi



چاند نکلا ہے محرم کا تو تنہا صغریٰ 
دیکھ کر روتی ہے بیمار سرِ راہ صغریٰ


جب نکلتا ہے محرم میں تو سب روتے ہیں
ایک بیمار نظر آتی ہے تنہا صغریٰ
 

تیرے چڑھنے سے اجڑ جائے گا گھر زہرا کا
آج چھپ جا تجھے کہتی ہے یہ دکھیا صغریٰ


شام ڈھلتی ہے تو آجاتے ہیں پنچھی گھر کو
دیتی ویران گھروں سے ہے یہ صدا صغریٰ


جس طرح بچھڑی ہوں میں اور نہ بچھڑے کوئی
کرتی نانا سے ہے رو رو کے یہ شکوہ صغریٰ


پوچھتا ہے کوئی صغریٰ سے رودیتی ہے
کیوں نہ آیا تیرا اکبر ذرا بتلا صغریٰ


دل میں ہے اِک تمنا کہ ملے اکبر سے 
رات دن کرتی ہے روضے پہ یہ دعا صغریٰ


آس بھی ٹوٹ گئی سانس بھی اکھڑی میری
ہائے کب دیکھے گی اکبر تیرا چہرہ صغریٰ


نہ ملا بابا نہ بھیا کبھی سردار جیسے
سہ گئی کس طرح ہر غم کی انتہا صغریٰ