یا علیؑ یا ایلیاؑ یا ابو الحسنؑ یا ابوترابؑ
بھائی میرا قتل ہوا آئيے بابا شتاب
لو پھیل گيا شام غریباں کا اندھیرا
اسباب لٹا جل گیا سادات کا خیمہ
بے گوروکفن رن میں ہے شبیرؑ کا لاشہ
سب مارے گۓ دشت میں زینبؑ ہوئی تنہا
اصغرِؑ بے شیر کو رونے لگی امّ ربابؑ
ماری گئی اک روز میں سب فوج حسینی
ہر لمحہ مصیب تھی نئی ہم نے جو دیکھی
بے مونس و غم خوار تھے یاور نہ تھا کوئی
تھا عصر کا ہنگام کہ آواز یہ گونجی
مارا گيا حیدرؑ کا پسر دشت میں بے آب
ہاۓ وہ بہن جس کے ہوں اٹھارہ برادر
اور باپ بھی جس بیٹی کا ہو فاتح خیبر
نرغے میں لعینوں کے وہ مظلوم کھلے سر
کیسے نہ کرے نوحہ وہ پھر خاک اڑا کر
نوحہ کناں خلد میں ہے روحِ رسالت مابۖ
کٹ کے جو گرے خاک پہ عباسؑ کے بازو
رکتے ہی نہ تھے آنکھ سے شبیرؑ کے آنسو
میں خیمے میں روتی تھی وہ روتے تھے لب جُو
ماتم ہی تھا ماتم ہی تھا ماتم ہی تھا ہر سو
کہتے تھے شبیرؑ کہ يـالـيـتـني كنت تراب
اکبرؑ کا جگر ہو گيا برچھی سے دوپارہ
اور اصغرِؑ مصعوم بھی مارا گيا پیاسا
ٹکڑے ہوا میدان میں نوشاہ کا لاشہ
مارا گيا وہ شیر جو تھا سب کا سہارا
عونؑ ومحمدؑ کا ملا خاک میں کیسا شباب
اصغرؑ کے لگا تیر میں روتی رہی بابا
مارے گۓ شبیرؑ میں روتی رہی بابا
ہنستے رہے بے تیر میں روتی رہی بابا
شہہ پہ چلی شمشیر میں روتی رہی بابا
دیکھیے پردیس میں قسمت ہوئ میری خراب
اب بالی سکینہؑ کو ستاتے ہیں ستمگر
کچھ کر نہیں سکتی کہ رسن بستہ ہے مادر
پابند سلاسل ہے میرا عابدِؑ مضطر
زینبؑ کے کلیجہ پہ چلے ظلم کے خنجر
کیا کروں بابا میرے میں دیجئے کچھ تو جواب
ریحان بہت ہوچکی اب اشک فشانی
زینبؑ پہ مصیبت کی یہ پردرد کہانی
سب اہل عزا سن چکے سرور کی زبانی
تھمتی ہی نہیں آنکھوں سے اشکوں کی روانی
کون سنے قصہ غم کس میں رہی اتنی تاب
یا علیؑ یا ایلیاؑ یا ابو الحسنؑ یا ابوترابؑ