یا رب کوئی معصومہ زنداں میں نہ تنہا ہو
پابند نہ ہو آہیں , رونے پہ نہ پہرا ہو
یا رب کوئی معصومہ زنداں میں نہ تنہا ہو
تھی جس کو نیند آتی , شببرؑ کے سینے پر
زنداں در زنداں , اُس کے لئے قضا ہو
زندانوں سے آتی تھی آواز سسکنے کی
جیسے کہ سکینہؑ کو , ہر زندان رو رہا ہو
ٹکرائے نہ وہ کیوں کر زنداں کی دیواروں سے
بھائی سے اور پھپھی سے , جس کو جدا کیا ہو
بے کفن اُسے عابدؑ تنہا ہی اٹھا لائے
کونین کا وارث ہائے ، جس بی بی کا دادا ہو
زندان میں اے نجفی یاد آئی سکینہؑ کی
دل رو رو کہہ رہا ہے , اب نہ اجالا ہو