Teeron ke mussalay par woh sajda e shukrana
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

تیروں کے مصلے پر وہ سجدہ  شکرانہ
شبیرنے بتلایا اسلام پہ مر جانا
 
کچھ اسطرح لاش آئی اک رات کے بیا ہے کی 
افسوس کہ مادر نے بیٹے کو نہ پہچانا

سوچو تو مسلمانوں یہ بات کوئی کم ہے 
احمد کی نواسی کا دربار میں آجانا
 
یہ ماں کی وصیت تھی عباس  دلاور کو
جب دین پہ بن آئے تم دین پہ مر جانا

دنیا تو نہ بھولے گی عباس  وفا تیری 
تلوار نہیں کھینچی آقا کا کہا مانا

اک تیر علی اصغر کی گردن میںلگا آکر
معصوم کا ہنس دینا اور موت کا گھبرانا

برچھی علی اکبر کے سینے سے نکل آئی 
دیکھا نہ گیا شاہ سے یوں دل کا نکل آنا

دربار میں فضہ نے لوگوں سے کہا رو کر
آتی ہے نبی زادی تعظیم کو جھک جانا

تاحشر رلائے گا مولا کی تیاری پر
دلدل کی رکابوں سے بیٹی کا لپٹ جانا

میت علی اصغر کی ہاتھوں پہ اٹھا بولے
اللہ تیرے آگے ہے شبیر کا نذرانہ

حیدر کی جلالت کا انداز نظر آیا
وہ شامِ غریباں میں زینب کا نہ گھبرانا

بھولے گا زمانے کو منظر نہ کبھی ناصر
معصوم کی میت کو شبیر کا دفنانا

ناصر کا یہ دعویٰ ہے بنتا ہے حسین ایسے 
سانچے میں امامت کے قرآن کا ڈھل جانا