Ooncha rahay apna alam
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

ونچا رہے اپنا علم
جب تک ہے دورِ آسماں
سُن لے یہ ہر پیر و جواں
آواز پر شبیرؑ کی بڑھتا رہے یہ کارواں
رُکنے نہ پائیں یہ قدم
اونچا رہے اپنا علم

ہر قلب پر چھاتے چلو
دُنیا کو بتلاتے چلو
اک اک محاذِ ظُلم کی تصویر دکھلاتے چلو
ہر دل میں بھر دو شِہؑ کا غم
اونچا رہے اپنا علم

کب تک نہ مانیں گا کوئی
وہ وقت آئے گا کبھی
ہر قلب پر چھا جائے گا اپنا حُسین ابنِ علی
اس در پہ ہر سر ہو گا خم
اونچا رہے اپنا علم

جب بھی کوئی مُشکل پڑی
دُنیا اسی در پر جھُکی
سینوں پر بل کھا کر ادھراُٹھی صدائے یا علی
نکلا اُدھر باطل کا دم
اونچا رہے اپنا علم

یہ پرچمِ عباس ہے
ٹوٹے دلوں کی آس ہے
اب تک اسی پرچم تلے زندہ کسی کی پیاس ہے
جس نے سہے لاکھوں ستم
اونچا رہے اپنا علم

عباس ہے نامِ وفا
آغاز و انجامِ وفا
مُنہ موڑ کے دریا سے جو پیتا رہا جامِ وفا
ہوتے رہے بازو قلم
اونچا رہے اپنا علم

وہ تیرِ بانیءِ جفا
معصوم کا ننھا گلا
اسلام زندہ کر گئی اصغر کے مرنے کی ادا
ہنس کر سہا تیرِ ستم
اونچا رہے ۔۔۔۔۔

زندہ ہے ھل مِن کی صدا
مٹتا نہیں خوں کا لکھا
شبیر کے حق کی قسم اک معجزہ ہے کربلا
جو سلسلہ ہو گا نہ کم
اونچا رہے ۔۔۔۔۔

اے نوجوانانِ عزا
تم ہو کسی دل کی دعا
تا حشر اُٹھتی ہی رہے سینوں سے ماتم کی صدا
قائم رہے اکبر کا غم
اونچا رہے اپنا علم

جب کربلا یاد آئے گی
انسانیت شرمائے گی
مظلوم کی آواز ہے دل میں اُترتی جائے گی
پلٹیں گے پھر بہکے قدم
اونچا رہے اپنا علم

زندہ یہ بیداری رہے
یہ سلسلہ جاری رہے
ہم ہوں نہ ہوں اس بزم میں قائم عزاداری رہے
نکلے اسی چوکھٹ پہ دم
اونچا رہے اپنا علم