Gulshan e Aal e Payambar may khizaan aanay ko hay
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

گلشن آ ل پیمبر میں خزاں آنے کو ہے
حیدر و صفدر کا سایہ سر سے اٹھ جانے کو ہے


آج زینب کو نظر آنے لگا بازارِ شام
فاطمہ کیا پھرکسی دربار میں جا نے کو ہے


زینب و کلثوم رکھنا حوصلے اپنے بلند
آج پھرکوئی قیامت کی خبر آنے کو ہے


جب گرے گھوڑے سے غازی تو سکینہ نے کہا
دُر میرے اور چادر تطہیر چھن جانے کو ہے


ننھے ننھے بازووں میں ڈال کر چھوٹی سی مشک
شیرِ حق عباس کی کچھ شان دکھانے کو ہے


آج کی شب روضہ ختم رسل ہل جائے گا
اِبن ملجم آج کچھ ایسا غضب ڈھانے کو ہے


زینب و کلثوم کو سینے سے کر لو اب جدا
باپ کے چہرے کی رنگت اب بدل جانے کو ہے


چھا گئی ہے کیوں اداسی شبرو شبیرپر
صاف ظاہر ہے یتیمی سر پہ چھا جانے کو ہے


کربلا والوں کی شاید تشنگی کا ہے خیال
ساقیِ کوثر ذرا پہلے چلے جانے کو ہے


تا قیامت خوں روئے گی زمین کربلا
ظلم کی کالی گھٹا سر پہ چھاجانے کو ہے