اے چاند محرم کے تو بدلی میں چلا جا
تجھے دیکھ کے مر جائے نہ بیمار ہے صغراؑ
گھر زہراؑ کا لٹنے کی، خبر تو نے سنائی
تجھے دیکھ کے روتی ہے، محرم میں خدائی
چودہ سَو برس بیتے، سب کرتے ہیں شکوہ
ملنے کے لئے بھائی، کو بےچین بڑی ہے
کب سے علی اکبرؑ کی، یہ راہوں میں کھڑی ہے
بچھڑی ہے یہ مدت سے، اِسے تو نہ نظر آ
ویران گھروں میں نہ، اِسے نیند ہے آتی
اکبرؑ کی جدائی ہے، اِسے خوب رلاتی
قدموں کے نشاں ڈھانپ کے، بیٹھی ہے سرِ راہ
بھیا کی جدائی میں، پریشان ہے رہتی
ہر روز یہ نانا کو، رو رو کے ہے کہتی
اکبرؑ نہ ملِا نانا، میں مر جاؤں گی تنہا
رونے نہیں دیتےمجھے، راتوں کو مسلماں
بیماری سے بے حال ہوں، کچھ روز کی مہماں
ہر سمت سے ہے مجھ کو، اب موت نے گھیرا
بہنوں کا تو بھائیوں سے، رشتہ ہی عجب ہے
تم بھول گئے مجھ کو، یہ کیسا غضب ہے
اِس آس پہ زندہ ہوں، دیکھوں تیرا سہرا
وعدہ جو کیا بہن کو، سینے سے لگا کے
میں شادی کروں گا تو، تیرے پاس ہی آکے
میں سات محرم کو، لوٹوں گا نہ گھبرا
قاصد کو دیا خط میں، یہ پیغام لِکھا کے
اِک بار تو مل جا مجھے، سینے سے لگا کے
پتھرائی ہوئی نظریں، کب دیکھیں گی چہرہ
ویران گھروں میں نہ، اِسے نیند ہے آتی
اکبرؑ کی جدائی ہے، اِسے خون رلاتی
قدموں کے نشاں ڈھانپ کے، بیٹھی ہے سرِ راہ
گِن گِن کے تو صغراؑ نے، یہ دن ہیں گزارے
زندہ ہے تو اکبرؑ کے، وعدوں کے سہارے
دن رات تڑپتی ہے، اِسے اور نہ تڑپا
صغراؑ کے نصیبوں میں، تو رونا ہی لکھا ہے
سردار معصومہؑ کو، ملی کیسی سزا ہے
ؑخط آیا نہ اکبرؑ کا، روتی رہی صغرا