جب سبطِ مصطفیؑ نے وطن سے سفر کیا
دشتِ بلا بسانے کو ویران گھر کیا
رخ پہلے سوئے مرقدِ خیرالبشر کیا
روضے کو دیکھ دیکھ کرآنکھوں کو تر کیا
کہتے تھے غم بڑا یہ لئے جائے گا حسینؑ
کاہے کو اس مزار پہ پھر آئے گا حسینؑ
یہ کہہ کے اترے گھوڑے سے با چشمِ اشکبار
تسلیم کی مزار کو اور یوں کیا پکار
نانا - نانا تمہاری قبرِ منؑور پہ میں نثار
ہونے کو رخصت آیا ہے زہراؑ کا یادگار
ناچار اِس مزار سے منہ موڑے جاتا ہوں
اعدا کی دشمنی سے وطن چھوڑے جاتا ہوں
------------------------------------------------
چھوڑتا ہوں میں وطن دیں کو بچانے کے لئے
جو کیا وعدہ ازل میں وہ نبھانے کے لئے
کر دیا مجبور مجھ کو کرنے آیا ہوں سلام
جا رہا ہوں کربلا واپس نہ آنے کے لئے
------------------------------------------------
یہ کہہ کے لپٹے قبر سے اور روئے زار زار
محبوبِ کبریا کا لگا کانپنے مزار
آئی صدا یہ روضہِ اقدس سے بار بار
اے جانِ فاطمہ تیری غربت پہ میں نثار
جب تو چلا تو چین کب آئے گا رسول کو
تربت میں ظالموں نے ستایا بتولؑ کو
نانا کے اِس کلام سے روئے بہت امام
رخصت کا پھر ادب سے کیا آخری سلام
پھر پھر کے گرد روضے کے اہلِ حرم تمام
یک بار مہملوں میں چڑھے بصد احترام
خلقت یہ کہتی جاتی تھی ہمراہ ہیں اہلبیت
جو آئے گا نہ پھر کے کبھی شہنشاہِ اہلبیت
------------------------------------------------
آگیا وہ دن بھی شدّت سے تھا جس کا انتظار
بیٹھی ہے تیار زینب ساتھ جانے کیلئے
آسماں مثلِ کماں دشتِ بلا پر جھک گیا
جب جھکے شہہؑ لاشئہِ اکبرؑ اٹھانے کے لئے
ہو گئیں نانا مکمل سب میری قربانیاں
آ گیا دنیا میں اصغر تیر کھانے کے لئے
ڈھل گیا عاشور کا دن چھا گئی تنویر رات
آگ لاتے ہیں شقی خیمے جلانے کے لئے
سُوکھے لب معصومہ کے دیکھے تو غازیؑ نے کہا
جا رہا ہوں میں سکینہؑ پانی لانے کے لئے
===========================================
چھوڑتا ہوں میں وطن دیں کو بچانے کیلئے
جو کیا وعدہ ازل میں وہ نبھانے کیلئے
آگیا وہ دن بھی شدّت سے تھا جس کا انتظار
بیٹھی ہے تیار زینب ساتھ جانے کیلئے
کر دیا مجبور مجھ کو کرنے آیا ہوں سلام
جا رہا ہوں کربلا واپس نہ آنے کیلئے
ہو گئی نانا مکمل سب میری قربانیاں
آ گیا دنیا میں اصغر تیر کھانے کیلئے
آسماں مثلِ کماں دشتِ بلا پر جھک گیا
جب جھکے شہہؑ لاشئہِ اکبرؑ اٹھانے کے لئے
تڑپی ہے زینب ابھی تک خوں روتا ہے سجاد
پھر کوئی اس کو نہ کہہ دے شام جانے کیلئے
کانپتے ہیں سارے انساں موت کی دھلیز پر
دل علی اصغر کا چاہےئے مسکرانے کیلئے
سوکھے لب معصومہ کے دیکھے تو غازی نے کہا
جارہا ہوں میں سکینہ پانی لانے کیلئے
ڈھل گیا عاشور کا دن چھاگئی تنویر رات
آگ لاتے ہیں شقی خیمے جلانے کیلئے