رُونے کیلئے کافی ہے سجاد تیرا نام
تو شہنشاہِ درد ہے بتلا رہی ہے شام
چلا بِے کسوں کا کارواں
بیمار لوگوں سارباں
ہے سنگ سرِ عریاں
شہ لا فتی کی بیٹیاں
کرب و بلا کے دشت میں برپا ہوا کہرام
مُشکل تھی بڑی وہ گھڑی
دربار میں زینب کھڑی
شبیر کے لبِ پر چھڑی
سجاد نے پہنی کڑی
دربارِ یزیدی کے لِرزے تھے در و بام
زینب پُکارے بِے وطن
بھائی میرا ہے بِے کفن
کر دے اُسے کوئی دفن
میرے ہاتھوں میں باندھی رسن
ہائے کیسے سُنا ہوگا بیمار نے پیغام
کٹ جاتے سیدوں کے سر
زینب نہ جاتی در بدر
بیمار کا ٹکڑے جگر
روتا ہے لہو ہر نگر
ہائے منزلوں کے در پہ نہ
سجاد تیرا کام
----زندان سیاہ پوش ہے
----تنہائی بھی آغوش ہے
----عابد کہے نہ ہوش ہے
----دم ٹوٹا ہے خامُوش ہے
----اُمّت نے سکینہ کو دیا مُوت کا اِنعام
مستوروں میں اک مرد ہے
غیرت سے چہرہ زرد ہے
کربل کی زمیں گرد ہے
زینب کا دل میں درد ہے
روتا ہے سر جھکا کے کرتا نہیں کلام
زنداں کی سویا خاک پر
عادل لہو پُوشاک پر
چرچے ہوئے اِفلاک پر
سُلطانیء لُولاک پر
ہیں جن و ملائک بھی سجاد کے خُدام