اب بھی آتی ہیں سکینہؑ کی صدائیں لوگو ہائے زندانوں سے
میرے بابا کو ملا دو میں دعائیں دوں گی
سسکیاں لے کے جو کہتی تھی مسلمانوں سے
بولے سجادؑ سکینہؑ یہ مقدّر تیرا
بے وطن تجھ کو لئے پھرتا ہوں بازاروں میں
اور لہو آج بھی جاری ہے تیرے کانوں سے
جا کے مقتل میں پکاری یہ سکینہؑ رو کر
بھیا قاسمؑ میرے اکبرؑ تم کہاں ہو سارے
میرے بابا کو بچا لو آکے شیطانوں سے
جب چلی گھر سے تیرے ساتھ سبھی تھے زینبؑ
عونؑ و محمدؑ و اکبرؑ یاد آتے ہوں گئے
لوٹ کے آئی جو ہوگی تو بہی خانوں سے
لبِ دریا سے علمدارؑ کی آئی یہ صدا
اے سکینہؑ تجھ سے شرمندہ ہے چاچا تیرا
پانی پہنچا نہ سکا ہائے کٹے شانو ں سے
آٹھ آذانیں بہ یک وقت فضا میں گونجی
ثانیِ زہراؑ کے خطبوں کو دبانے کی لیے
شور برپا کیا دربار میں آذانوں سے
قائمِ آلِ محمدؑ یہ ہے اختر کی دعا
صدقہ حسنینؑ کا اے مولا صدائے ماتم
حشر تک یوں ہی صدا گونجے عزا خانوں سے