عاشور کا سورج جلتا ہے
ہر خاک کا ذرا جلتا ہے
جلتی ہے زمینِ کرب و بلا
یا عرشِ معلیٰ جلتا ہے
انصار کے خیمے جلتے ہیں
شبیرؑ کا خیمہ جلتا ہے
اسلام کی دنیا جلتی ہے
کعبے کا مصلےٰ جلتا ہے
عاشور کا سورج ۔۔۔
قرآن کے پڑھنے والوں نے
قرآں کو جلا کر خاک کیا
یٰس کا سورہ جلتا ہے
قرآن کا پارہ جلتا ہے
عاشور کا سورج ۔۔۔
عترت پہ نبیؐ کے جور و ستم
کیا خوب مسلمانوں نے کیا
زینبؑ کی ردا کیا جلتی ہے
اسلام کا پردہ جلتا ہے
عاشور کا سورج ۔۔۔
نیزے جو جگہ دی ہے دل میں
ایسے کہ جگر کا کیا کہنا
اکبرؑ کو سکونِ قلب ملا
لیلیٰؑ کا کلیجہ جلتا ہے
عاشور کا سورج ۔۔۔
گھر بار جلایا اُمت نے
کیا خوب یہ اجرِ رسالت ہے
جلتی ہے محمدؐ کی مسند
بے شیر کا جھولا جلتا ہے
عاشور کا سورج ۔۔۔
رکھی جو فدک میں چنگاری
یہ شعلے اُسی کے نکلتے ہیں
کیا آگ بغاوت کی پھیلی
رن کرب و بلا کا جلتا ہے
عاشور کا سورج ۔۔۔
بے شیر کی تشنہ دہانی نے
اک آگ لگا دی پانی میں
اصغرؑ کے تبسم پر اب تک
دریا کا کنارا جلتا ہے
عاشور کا سورج ۔۔۔
خیمے میں سکینہؑ دیکھتی ہے
جب یاس سے خالی ساغر کو
ساحل پہ تڑپتا ہے لاشہ
سقّہ کا کلیجہ جلتا ہے
عاشور کا سورج ۔۔۔
صد ہیف کے مثلِ رنگِ حنا
کبریٰ کا سہاگ اب جل ہی گیا
اس دشتِ بلا میں اے مرزا
کیا کیا میں کہوں کیا جلتا ہے
عاشور کا سورج ۔۔