عصر کا وقت قریب آگیالو جاتے ہیں ہم
الوداع اہلِ حرم الوداع الوداع
جانے پھر لوٹ کے آئے کہ نہ آئے یہ قدم
الوداع اہلِ حرم الوداع الوداع
میرے نانا کی عبا اور عمامہ لائو
وہ جو کُرتا میری اماں نے سیا تھا لائو
اور زینب کو بُلا لائو کہ اب وقت ہے کم
الوداع اہلِ حرم الوداع الوداع
بی بیو دیکھ لو جی بھر کے چلو روئے حسین
گُلِ زینب سے جُدا ہوتی ہے خوشبوئے حسین
جانے پھر ہو کہ نہ ہو لمحہ یہ زیارت کا بہم
الوداع اہلِ حرم الوداع الوداع
بولے شہہ گھرکی نگہباں میری زینب تم ہو
میں تو جاتا ہوں مگر میری جگہ اب تم ہو
جانیو اس کو غنیمت ہے جو سجاد کا دم
الوداع اہلِ حرم الوداع الوداع
بیبیاں حلقہ کیئے تھیں تنِ مظلوم کے گرد
بال کھولے ہوئے آنسو لیے معصوم کے گرد
نوحہِ حضرتِ زینب پہ تھا شہہ کا ماتم
الوداع اہلِ حرم الوداع الوداع
ہاتھ اُٹھاتے ہی نہیں ظُلم سے یہ بانیئے شر
لے گئے کاٹ کے یہ عون و محمد کے بھی سر
اب میرے سر کے طلبگار ہیں یہ اہلِ ستم
الوداع اہلِ حرم الوداع الوداع
غش سے عابد کو اُٹھا کر کہا بیٹا ہوشیار
لو ہوئی شام ہوئی شام کی منزل تیار
تم ہو اب اور ہے بے پردگیِ اہلِ حرم
الوداع اہلِ حرم الوداع الوداع
ہو کے رُخصت ہوئے شبیر جو گھوڑے پہ سوار
ایڑھ دیتے تھے جو بڑھتا نہ تھا آگے راہوار
کوئی بچی تھی جو راہوار کے تھامے تھی قدم
الوداع اہلِ حرم الوداع الوداع
اُترے گھوڑے سے سکینہ کو اُٹھایا اک بار
جھُک کے رُخسار کو سینے سے لگایا اک بار
بولے پھر سے کے پانی کے لیے جاتے ہیں ہم
الوداع اہلِ حرم الوداع الوداع
کر کے سینے سے سکینہ کو جُدا شہہ نے نوید
جائو خیمے میں سکینہ سے کہا شہہ نے نوید
پھر بڑھے سوئے فراز شاہ با لرزیدہ قدم
الوداع اہلِ حرم الوداع الوداع