افسوس نبی زادیوں کا شام میں جانا
سجادؑ سے پوچھو
سر کھولے وہ ماں بہنوں کا دربار میں جانا
سجادؑ سے پوچھو
چھپتی تھی نبی زادی نبی زادی کے پیچھے
کس شرم و حیا سے
اور شمر کا ان بیبیوں کے نام بتانا
سجادؑ سے پوچھو
جب دختر شبیرؑ نے زنداں میں قضا کی
آفت کی گھڑی تھی
وہ ننھی سی میت بندھے ہاتھوں سے اٹھانا
سجادؑ سے پوچھو
جب غسل سکینہؑ کو وہاں دے چکی غسال
تھا سب کا برا حال
اُس ننھی سی میت پہ نشاں رسی کے پانا
سجادؑ سے پوچھو
بیٹھے ہوئے دربار میں سب چھوٹے بڑے تھے
سادات کھڑے تھا
سر طشت میں رکھا ہوا زینبؑ کو دکھانا
سجادؑ سے پوچھو
تھی ایک رسن بارہ اسیروں کے گلے تھے
سب چپکے کھڑے تھے
رسی میں بندھے زینبؑ و کلثومؑ کا آنا
سجادؑ سے پوچھو
سر حضرت مسلمؑ کا لٹکتا تھا جہاں پر
واں شہہ کا رکا سر
دُر سید سجادؑ کو اسوقت لگانا
سجادؑ سے پوچھو
جب بالی سکینہؑ کو غسل دیتے تھے سجادؑ
فریاد ہے فریاد
اس ننھی سی گردن پہ نشاں رسی کے پانا
سجادؑ سے پوچھو
غش کھا کے گرے سید سجادؑ زمیں پر
برپا ہوا محشر
نیزے کی انی سے انہیں اُسوقت اٹھانا
سجادؑ سے پوچھو