ہائے سجادؑ چلے شام خدا خیر کرے
گلے میں طوق ہے اور بیڑیاں ہیں پیروں میں
دیا ہے شام کے لوگوں نے یہ انعام
خدا خیر کرے
وہ جس کے سر سے ردا بھی کبھی سرک جائے
تو مارے شرم کے سورج وہیں پلٹ جائے
شرابیوں سے ہوئی ہے وہ ہمکلام - خدا خیر کرے
تمام شہروں کے دیوار و در سجائے ہیں
کھڑی ہیں عورتیں ہاتھوں میں سنگ اٹھائے ہیں
کِیَا ہے جشنِ فتح کا یہ اہتمام - خدا خیر کرے
بنا کے قیدی اولادِ علیؑ کو لائے ہیں
یہ شور برپا ہے آئیں ہیں باغی آئے ہیں
مچا ہے شام کے لوگوں میں کہرام - خدا خیر کرے
بازارِ شام میں زینبؑ تو بے ردا ہے کھڑی
بیمار سیّدِ عابدؑ پہ کیا کٹھن ہے گھڑی
کھڑا بازار میں ہر سُو ہے مجمع عام - خدا خیر کرے
جنابِ غازیؑ کا سر سانگ پہ تڑپتا تھا
بیمار قیدی کی آنکھوں سے خوں برستا تھا
لعین لیتا تھا زینبؑ کا جب بھی نام - خدا خیر کرے