ائے شامِ غریباں
بہتی رہی فُرات
خون ہو کر بہہ گیا اکبر کا دل
مسکرا کر ختم اصغر ہوگئے
بہتی رہی فُرات۔۔۔
کربلا کے دشت میں کیسا اندھیرا چھا گیا
آگئی شامِ غریباں سرخ ہے خاکِ شفائ
جل گئے خیمے سرِ شامِ الم
کتنے منظر خاک ہو کر رہ گئے
بہتی رہی فُرات
ڈھل گیا دن شام آئی شام بھی ایسی کے بس
دوپہر کے بعد چھائی ایسی تنہائی کے بس
کس طرح زہرا کا گھر لُوٹا گیا
ہوگئے۲۷کس طرح بے سر بہتّر
بہتی رہی فُرات۔۔۔
آج صبحِ دم یہ گھر روشن بھی تھا آباد بھی
سب کے وارث تھے سلامت بھائی بھی اولاد بھی
اک ہوا ایسی چلی پردیس میں
بے زباں بچے بھی بے سر ہوگئے
بہتی رہی فُرات۔۔۔
یہ ہے وہ شامِ غریباں جو قیامت بن گئی
دُخترِ زہرا کے سر سے جس نے چادر چھین لی
یارسو ل اللہ قیامت ہوگئی
داخلِ خیمہ ستمگر ہو گئے
بہتی رہی فُرات۔۔۔
ایک اک قطرے کو ترسے بن میں اطفالِ حسین
مشک زخمی خالی کوزے لاش پامالِ حسین
رہ گیا میدان میں بے کس کا تن
جشن مین مصروف لشکر ہوگئے
بہتی رہی فُرات۔۔۔
مرتے دم پانی پسرمانگے پدر مجبور ہے
تُوبتا شامِ غریباں القمہ کیا دُور ہے
وائے نہرِ القمہ بہتی رہی
اور پیاسے قتل اکبر ہوگئے
بہتی رہی فُرات۔۔۔
ہے وہی منظر وہی خیمے وہی تشنہ لبی
آئی ہے شامِ غریباں خوں رُلانے آج بھی
غم ہمیں ریحان وسرسر کیوں نہ ہو
مہوے ماتم جب پیمبر ہوگئے
بہتی رہی فُرات۔۔