بازار شام آگیا
اکبرؑ میرے جواں
کس کو بلاۓ ماں
بازار شام آگیا
زینب کی لو خبر عابدؑ ہیں ناتواں
دشت بلا کو چھوڑ کر خاک شفا کو اوڑھ کر
اے فخر کبریا سنو کہتی ہے ہاتھ جوڑ کر
کیسے چلے گی اے میرے نوجواں
بازار شام آگیا
قسمت کی پاسباں ہے وہ خیرالنساء کی جاں ہے وہ
غربت کی انتہا ہوئی غیروں کے درمیاں ہے وہ
شہزادی جناں سہتی ہیں سختیاں
بازار شام آگیا
قاتل تیرا میرے پسر سجاد کا ہے ہمسفر
کم تو نہیں ہے یہ ستم سہتا رہا ہے وہ مگر
کیسے سہے بھلا بیمار سارباں
بازار شام آگیا
میں نے سنی ہے یہ صدا کہتے ہیں شام میں سبھی
بدلہ علی کا لیں گے ہم بنت علیؑ سے آج ہی
پتھر سے ہے بھری لوگوں کی جھولیاں
بازار شام آگیا
نامحرموں کی بھیڑ میں اٹھتی نہیں نظر میری
عباسؑ کی قسم نہيں تشنہ لبی کا غم کوئی
دکھ ہے یہ میری جاں سہمی ہیں بیبیاں
بازار شام آگیا
پالا ہے جس نے عمر بھر اکبرؑ تجھے حجاب میں
غازیؑ کے سامنے بھی وہ بیٹا رہی نقاب میں
غیروں میں بے ردا آتی ہے المّـاں
بازار شام آگیا
نوک سناں کو دیکھ کر یاور یہ کہہ رہی تھی ماں
آ دیکھ تو بھی نوجواں مادر کا اپنی امتحاں
آنکھیں نہ بند کر غیرت کے آسماں
بازار شام آگیا
اکبرؑ میرے جواں
کس کو بلاۓ ماں
بازار شام آگیا