اے رات نا ڈھلنا كے اجڑ جائے گی زینبؑ
بھائی سے دمِ صبح بچھڑ جائے گی زینب
اے رات نہ ڈھلنا كہ اجڑ جائے گی زینبؑ
سونے دے سكینہؑ کو كہ پِھر سو نا سکے گی
رونا بھی جا چاہے گی تو پِھر رَو نا سکے گی
اصغرؑ سے ملاقات تو پِھر ہو نا سکے گی
اے رات نہ ڈھلنا كہ اجڑ جائے گی زینبؑ
گبھرائے ہوئے لال ہے سہمی ہوئی مائیں
جی بھر كے میں دے لوں علی اکبرؑ کو دعائی
لینا ہے ابھی عونؑ و محمدؑ کی بلائیں
اے رات نہ ڈھلنا كہ اجڑ جائے گی زینبؑ
ہر چند کہ بچوں کی ابھی پیاس ہے باقی
کچھ آنکھ میں حسرت تو کچھ آس ہے باقی
لیکن میرا بھائی میرا عباسؑ ہے باقی
اے رات نہ ڈھلنا كہ اجڑ جائے گی زینبؑ
باقی ہے ابھی آلِ محمدؑ کا سفینہ
بیٹی کو سلانے کو ہے شبیرؑ کا سینا
جھولا علی اصغرؑ کا جھلاتی ہے سکینہؑ
اے رات نہ ڈھلنا كہ اجڑ جائے گی زینبؑ
کل کون سنے گا یہ میری آہ و بُکا بھی
ھوگا تہہِ خنجر میرے بھائی کا گلا بھی
خیمہ تو کجا سَر پہ نہ ہوگی یہ ردا بھی
اے رات نہ ڈھلنا كہ اجڑ جائے گی زینبؑ
اے رات گھڑی بھر کو تو رہنے سکوں میں
گھر جائینگے ناصر میرے اعدا کی صفوں میں
یہ چاند سے چہرے تو نہا جائینگے خوں میں
اے رات نہ ڈھلنا كہ اجڑ جائے گی زینبؑ