بے درد مسلماں تو خوشیاں منارہے ہیں
عرب و عجم کے مولا دنےا سے جارہے ہیں
کچھ تو لحاظ کرتے دامادِ مصطفےٰ کا
سجدے میں جو علی پے ہائے ظلم ڈھارہے ہیں
احمد کے بعد زہرا اب چل پڑے علی بھی
آثار پنجتن کے ظالم مٹارہے ہیں
بالوں کو کھولے زینب کلثوم رو رہی ہے
گھر گھر چراغ کو فی شامی جلارہے ہیں
برسے گے تیر پیہم تابوت پر حسن کے
مولا یہ وقتِ آخر رو کے بتا رہے ہیں
نکلے ہیں آگ لے کر کچھ لوگ ثقیفہ سے
سادات کے گھروں کو ابتک جلارہے ہیں
تو سیکھ گھر میں چلنا وہ شام کا سفر ہے
تیری قید کے زمانے نزدیک آ رہے ہیں
مولا کے جنازے پر جبرئیل رو کے بولے
سردار انبیاءکے غمخوار جارہے ہیں