پر محمد ؑکے نواسے کو کفن بھی نہ ملا
حد ہوا کرتی ہے ہر ظلم کے افسانے کی
ظلم سہنے کی ستم سہنے کی غم کھانے کی
کلمہ گوؤں یہی ایک بات ہے رلوانے کی
ارے رسم ہے سارے مسلمانوں میں دفنانے کی
پر محمدؑ کے نواسے کو کفن بھی نہ ملا
اہل دولت بھی تھے سردار کے سامان بھی تھے
مذہب و ملت و اقوام کے سلطان بھی تھے
حاکم شرغ بھی تھے حامل ایمان بھی تھے
اور سات سو ظالموں میں حافظ قرآن بھی تھے
پر محمدؑ کے نواسے کو کفن بھی نہ ملا
ارے جب کسی گھر میں کوئی شخص بھی مر جاتا ہے
تعزیت کرنے کو ہر ایک وہاں آتا ہے
غسل دیتا ہے کوئی پھول کوئی لا تا ہے
کوئی دیتا ہے کفن اور کوئی دفناتا ہے
پر محمدؑ کے نواسے کو کفن بھی نہ ملا
یہ ہے پیغام محمد کا عطات کرنا
جس کا مر جائے کوئی اسکا پہ ستم مت کرنا
چاہیے تم کو یتیموں سے بھی شفقت کرنا
رے سب پہ لازم ہے جنازے کی مشیت کرنا
پر محمد کے نواسے کو کفن بھی نہ ملا
غسل میت کو بصد رنج و محن دیتے ہیں
دوست احباب تشفی کے سخن دیتے ہیں
بے وطن ہو تو مدد اہل وطن دیتے ہیں
چندا کر کر کے مسلمان کفن دیتے ہیں
پر محمدؑ کے نواسے کو کفن بھی نہ ملا