چلے آؤ عباس دینے کو کاندھا اُٹھاتے ہیں عابد سکینہ کا لاشہ
قیامت ہے زندان میں آج برپا اُٹھاتے ہیں عابد سکینہ کا لاشہ
چلے آؤ عباس دینے کو کاندھا اُٹھاتے ہیں عابد سکینہ کا لاشہ
ہے دستور یہ پردے داروں کے گھر کا یہ بیٹی کا لاشہ ہے شب میں اُٹھے گا
ستاروں سے کہہ دو کہ کر دیں اندھیرا اُٹھاتے ہیں عابد سکینہ کا لاشہ
چلے آؤ عباس دینے کو کاندھا اُٹھاتے ہیں عابد سکینہ کا لاشہ
فلک ہل رہا ہے زمیں کانپتی ہے لبوں پر مُسافر کے نادِعلی ہے
اِمامت کے ہاتھوں میں ہوتا ہے لرزا اُٹھاتے ہیں عابد سکینہ کا لاشہ
چلے آؤ عباس دینے کو کاندھا اُٹھاتے ہیں عابد سکینہ کا لاشہ
گلے سے لگا لیں بہن کو اُٹھا لیں جنازے کو سجاد کیسے سنبھالیں
ہے دھیان اِس کی ٹوٹی ہوئی پسلیوں کا اُٹھاتے ہیں عابد سکینہ کا لاشہ
چلے آؤ عباس دینے کو کاندھا اُٹھاتے ہیں عابد سکینہ کا لاشہ
دُعا کر رہی تھی مُسلسل قضا کی بڑی آرزو تھی اِسے کربلا کی
چلی اپنے بابا سے ملنے کو دُکھیا اُٹھاتے ہیں عابد سکینہ کا لاشہ
چلے آؤ عباس دینے کو کاندھا اُٹھاتے ہیں عابد سکینہ کا لاشہ
وہ کہتی تھی کب گھر کو جائیں گے بھائی یہ حسرت قضا بھی مٹانے نہ پائی
مدینے کی جانب ہے دُکھیا کا چہرہ اُٹھاتے ہیں عابد سکینہ کا لاشہ
چلے آؤ عباس دینے کو کاندھا اُٹھاتے ہیں عابد سکینہ کا لاشہ
اُسے کیا خبر تھی کہ ایسے لُٹے گی نہ بیٹا رہے گا نہ بیٹی رہے گی
نِکل جائے دم ہی نہ اصغر کی ماں کا اُٹھاتے ہیں عابد سکینہ کا لاشہ
چلے آؤ عباس دینے کو کاندھا اُٹھاتے ہیں عابد سکینہ کا لاشہ
وطن میں غریبُ الوطن وہ علی تھا ہے پردیس میں یہ علی بے سہارا
اُٹھایا تھا حیدر نے زہرا کا لاشہ اُٹھاتے ہیں عابد سکینہ کا لاشہ
چلے آؤ عباس دینے کو کاندھا اُٹھاتے ہیں عابد سکینہ کا لاشہ
تکلم یہ میت ہے بیکس بہن کی کمر جُھک رہی ہے غریب الوطن کی
بہتر 72 جنازوں سے بھاری جنازہ اُٹھاتے ہیں عابد سکینہ کا لاشہ
چلے آؤ عباس دینے کو کاندھا اُٹھاتے ہیں عابد سکینہ کا لاشہ