ہاے مسجد میں قتل غازیؑ کا بابا ہو گیا
فاطمہؑ کی بیٹیوں پہ ظلم کیسا ہو گیا
جوش میں آکرفرشتوں سے لگا کہنے خدا
سر کھلا ہے فاطمہؑ کا رو رہے ہیں مصطفیؐ
حشر سے پہلے یہ کیسا حشر برپا ہوگیا
آگئیں پردیس میں سادات پہ بربادیاں
لٹ گئی ہیں کوفہ میں کونین کی شہزادیاں
کٹ گئے سجدے میں حیدرؑ دین زندہ ہو گیا
دیکھ کر بابا کو زخمی رو رہی ہیں بیٹیاں
عرش پہ سارے فرشتے لے رہے ہیں سسکیاں
آسماں ہلنے لگا نبیوں پہ سکتہ ہو گیا
ہیں ابھی شبیرؑ و شبرؑ اور تَرا عباسؑ ہے
گھر ہے تیرے بابا کا کب شام کا بازار ہے
ثانیء زہراؑ تمہارا سر کیوں عریاں ہو گیا
رکھ لیا جھولی میں سر ہے آپکا شبیرؑ نے
دیکھ کر بابا کو زخمی یہ کہا دلگیر نے
ہائے کوفے میں یہ منظر کربلا کا ہو گیا