Roza Nahi Hussain Nazar Ayen Samnay
Efforts: فرح مقدس



اے کاش اب کی بار میں جب جاؤں کربلا
روضہ نہیں حُسین نظر آئیں سامنے

آنکھیں نہیں ہوں پھر بھی نظر آئے راستہ
میں دے رہا ہوں آپ کو جابر کا واسطہ
اتنا بُلند کیجئیے معیار عشق کا
روضہ نہیں حُسین نظر آئیں سامنے

اے کاش اب کی بار میں جب جاؤں کربلا
روضہ نہیں حُسین نظر آئیں سامنے

جس کو حُسین مِل گئے سب مِل گیا اُسے
اب اور کیا میں مانگوں گا گُنبد کو دیکھ کے
پہلی نظر میں ہوگی لبوں پر یہی دُعا
روضہ نہیں حُسین نظر آئیں سامنے

اے کاش اب کی بار میں جب جاؤں کربلا
روضہ نہیں حُسین نظر آئیں سامنے

پلکیں جُھکا کے جب رکھوں دربار میں قدم
ہو جائے میری آنکھوں پہ عباس کا کرم
نظریں میں جب اُٹھاؤں تو دیکھوں یہ معجزہ
روضہ نہیں حُسین نظر آئیں سامنے

اے کاش اب کی بار میں جب جاؤں کربلا
روضہ نہیں حُسین نظر آئیں سامنے

پوری ہو کیسے مولا زیارت کی آرزو
جب تک نہ آپ سے ہو ملاقات رُوبرو
تب جا کے ہوگا میری زیارت کا حق ادا
روضہ نہیں حُسین نظر آئیں سامنے

اے کاش اب کی بار میں جب جاؤں کربلا
روضہ نہیں حُسین نظر آئیں سامنے

قابل نہیں ہوں آپ کے ہاں مانتا ہوں میں
پر آپ تو کریم ہیں یہ جانتا ہوں میں
ہو جائے اِس غلام کو یہ معرفت عطا
روضہ نہیں حُسین نظر آئیں سامنے

اے کاش اب کی بار میں جب جاؤں کربلا
روضہ نہیں حُسین نظر آئیں سامنے

پہنچوں حرم میں جب کفِ عباس دیکھ کر
چہرے کے بل گِرا دوں میں خُود کو زمین پر
غازی کا پُرسہ لیجئیے جب دوں میں یہ صدا
روضہ نہیں حُسین نظر آئیں سامنے

اے کاش اب کی بار میں جب جاؤں کربلا
روضہ نہیں حُسین نظر آئیں سامنے

غم کا ضعیف چہرے پہ احساس دیکھ لوں
اکبر کی قبر دیکھ کے مولا سے جب کہوں
کیسے اُٹھایا آپ نے لاشہ جوان کا
روضہ نہیں حُسین نظر آئیں سامنے

اے کاش اب کی بار میں جب جاؤں کربلا
روضہ نہیں حُسین نظر آئیں سامنے

مِلنا ہے ہم کو فاطمہ زہرا کے چین سے
جو دل میں آرزو تھی وہ کہہ دی حُسین سے
اِس آس پر ہی جائیں گے ذیشان اور رضا
روضہ نہیں حُسین نظر آئیں سامنے

اے کاش اب کی بار میں جب جاؤں کربلا
روضہ نہیں حُسین نظر آئیں سامنے