جِسدم حُسین زِین سے آئے زمین پر
آنکھوں میں خاک اور بدن تھا لہو میں تر
جب سر اُٹھا کے دیکھا تو دُھندلا گئی نظر
دیکھا کوئی ضعیفہ چلی آتی ہے اِدھر
اماں کی خُوشبو آئی تو اُٹھنے لگے حُسین
تعظیم جب نہ ہو سکی کہنے لگے حُسین
زخم اتنے ہیں کہ اُٹھا نہیں جاتا اماں
مِل کے نو 9 لاکھ نے اتنا مجھے مارا اماں
زخم اتنے ہیں کہ اُٹھا نہیں جاتا اماں
اِس سے پہلے کہ مِیری بیٹی یہ دیکھے آکر
شِمر سے کہہ دو اُتر جائے میرے سینے سے
دیکھو سوتی ہے یہاں میری سکینہ اماں
زخم اتنے ہیں کہ اُٹھا نہیں جاتا اماں
ہائے پردیس میں یہ وقت ہے کیسا ہم پر
دیکھو تم پانی پلاتی تھی جِسے اُٹھ اُٹھ کر
آج آغوش میں مَر جائے گا پیاسا اماں
زخم اِتنے ہیں کہ اُٹھا نہیں جاتا اماں
میں نے دیکھا ہے اُسے چہرے کے بَل گرتے ہوئے
کٹ چُکے ہاتھ مِرا بھائی اُٹھے گا کیسے
دے کے آواز اُسے تم نہ بُلانا اماں
زخم اتنے ہیں کہ اُٹھا نہیں جاتا اماں
کُرز تلوار و تٗبر نیزہ و بَھالا مارا
جِس کو کچھ بھی نہ ملا اُس نے تمانچہ مارا
مُجھ پر بَرسا دیا جو ہاتھ میں آیا اماں
زخم اتنے ہیں کہ اُٹھا نہیں جاتا اماں
اُس نے دیکھا ہے ابھی صرف مِرا زخمی بدن
لڑکھڑاتے ہوئے گرتی ہے سنبھلتی ہے بہن
کیسے دیکھے گی بہن بھائی کا مرنا اماں
زخم اتنے ہیں کہ اُٹھا نہیں جاتا اماں
ہائے شبیر نے یہ ماں سے کہا رو رو کر
چلنے والا ہے میری سُوکھی رگوں پہ خنجر
میری گردن پہ ابھی ہاتھ نہ رکھنا اماں
زخم اتنے ہیں کہ اُٹھا نہیں جاتا اماں
کِتنے ارمان مِرے دل میں ہی دم توڑ گئے
دیکھو تنہا علی اکبر بھی ہمیں چُھوڑ گئے
چِھد گیا برچھی سے اکبر کا کلیجہ اماں
زخم اتنے ہیں کہ اُٹھا نہیں جاتا اماں
آخری وار ہوا کٹ گیا شبیر کا سر
ماں تڑپتی رہی ذیشان و رضا رو رو کر
گونجتا رہ گیا مقتل میں یہ نوحہ اماں
زخم اتنے ہیں کہ اُٹھا نہیں جاتا اماں