جب اہلِ حرم نے شام کے زنداں سے رہائی پائی
سجاد تڑپ کے کہنے لگے جب یاد سکینہ آئی
تم کیسے رہو گی زنداں میں اے بابا کی شیدائی
اتنا تو بتا دو صغرا کو کیا جا کے بتائے بھائی
سنا جب نام صغرا کا، صدا آئی سُنو بھیا
لگا ہے خون جس پر وہ میرے گوہر دکھا دینا
سکینہ رہ گئی زندان میں بھائی بتا دینا
سُنو بھیا شکایت ہے مجھے اِن شام والوں سے
کبھی دُرے لگائے ہیں کبھی کھینچا ہے بالوں سے
تمانچے اتنے کھائے ہیں لہو بہتا ہے گالوں سے
بہت اچھا ہوا بھیا وطن میں رہ گئی صغرا
کبھی وہ شام نہ آئے اُسے میری دُعا دینا
سکینہ رہ گئی زندان میں بھائی بتا دینا
ہمیں اہل ستم جب بھی سر بازار لاتے تھے
ہماری بے بسی کا وہ تماشہ یوں دکھاتے تھے
چچا کا سر گرانے کے لئے مجھ کو گراتے تھے
چچا کے پاس جانے پر زمیں سے سر اُٹھانے پر
بہت مارا لعینوں نے یہ صغرا کو بتا دینا
سکینہ رہ گئی زندان میں بھائی بتا دینا
کہیں دیکھی نہیں ایسی محبت باپ بیٹی میں
مجھے دربار میں مانگا گیا جس دم کنیزی میں
دلاسہ مجھ کو دینے آگیا سر میری گودی میں
مجھے حاکم نے جب دیکھا یہ کہہ کر شمر کو بھیجا
چُھڑا کر باپ کا سر تازیانوں کی سزا دینا
سکینہ رہ گئی زندان میں بھائی بتا دینا
مجھے دربار میں بابا سے ایسے بھی ملایا تھا
ستمگر سامنے خُرمے کا جب اک طشت لایا تھا
میں کتنا روئی تھی جب طشت سے کپڑا ہٹایا تھا
وہاں خُرمے نہیں سر تھا بتا دینا اُسے بھیا
وہ روئے تو میری غربت کا اُسکو واسطہ دینا
سکینہ رہ گئی زندان میں بھائی بتا دینا
کوئی بیٹی نہ دیکھے رن میں دیکھا میں نے جو منظر
گئی لاشوں سے ٹکراتے ہوئے بابا کے لاشے پر
کٹی انگی بدن میں تیر دیکھے کٹ چُکا تھا سر
نشاں تیروں کے اے بھیا نہ دیکھے فاطمہ صغرا
پدر کا خوں بھرا کُرتا وطن جا کر چُھپا دینا
سکینہ رہ گئی زندان میں بھائی بتا دینا
سکینہ جانتی ہے کیسے دیکھا زخم سینے پر
اُسے کیسے بتاؤ گے نہیں آئے علی اکبر
بہن مر جائے گی بھائی کے مرنے کی خبر سُن کر
بہت حساس ہے صغرا گلے سے تم لگا لینا
تیرا میں بھی تو بھائی ہوں یہ کہہ کر حوصلہ دینا
سکینہ رہ گئی زندان میں بھائی بتا دینا
چلے عابد تو ذیشان و رضا آواز یہ آئی
وطن جاتے ہوئے جب کربلا جانا میرے بھائی
میرے عمو سے کہہ دینا سکینہ مر گئی پیاسی
نہیں پانی کا غم ہائے چچا تم کیوں نہیں آئے
اندھیری قید میں رو رو کے موت آئی بتا دینا
سکینہ رہ گئی زندان میں بھائی بتا دینا