Abbas Abbas Hae Abbas
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi



عباسؑ کی بہن کا اب کون آسرا ھے
بازو کٹاکے غازیؑ دریا پہ سو رہا ھے

بہنوں کی آس تھا جو نیزے پہ اُسکا سر ھے
غازیؑ کے بعد پہلا زینبؑ کا یہ سفر ھے
سر پہ ردا نہیں ھے بازار آگیا ھے

ڈھارس تھی جسکےدم سےاب مرگیاوہ بھائی
کیسے سہیگی زینبؑ عباسؑ کی جدائی
بچھڑے نا کوئی بھائی زینبؑ کی یہ دعا ھے

عباسؑ تھا سلامت زینبؑ تھی شاہ زادی
عباسؑ اب نہیں تو زینبؑ بنی ھے قیدی
بھائی بہن پہ دیکھو غربت کی انتہا ھے

بے دست جب زمیں پہ گھوڑے سے وہ گراتھا
حسرت سے ھائے اپنےشانوں کو دیکھتا تھا
زخمی ھے اُسکا چہرا اور خون بہرہا ھے

منظر یہ نیزے والے رو روکے دیکھتے ہیں
سادات کے سروں پر پتھر برس رھے ہیں
اور کوئی گرم پانی پیاسوں پہ پھینکتا ھے

ہنستے ہیں شام والے روتی ہیں بنتِ زہراؑ
زینبؑ چھپا رہی ہیں بالوں سے اپنا چہرا
پھپیوں کےغم میں ھائےعابدؑ کا سر جھکا ھے

ہاں شمر کے طمانچے کھاتی ہے جب سکینہؑ
رو روکے دیکھتی ھے زینبؑ کو وہ حزینہ
یہ دیکھ کر زمیں پہ غازیؑ کا سر گرا ھے

کہتے ہیں دیکھو دیکھو باغی کی یہ بہن ھے
وہ جسکے بازؤں میں باندھی گئی رسن ھے
مشکل کشا کی بیٹی مشکل میں مبتلا ھے

نیزے پہ آگئی ھے زینبؑ کی اب ردا بھی
کیسے کھُلینگی آنکھیں نیزے پہ باوفا کی
بھائی بہن پہ کتنا مشکل یہ راستہ ھے

ظالم نے نام لیکر آواز جب لگائی
دربار میں بہن کو بھائی کی یاد آئی
عباسِ باوفا کا سر طشت میں رکھا ھے

ذیشان اور صبیب جتنا چلی ھے زینبؑ
غازیؑ کو یاد کرکے روتی رہی ھے زینبؑ
ہر موڑ پہ تڑپ کہ زینبؑ نے یہ کہا ھے