Bano baithi ro rahi hay Shaam ke zindan may
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

بانو بیٹھی رو رہی ہے شام کے زندان میں
کیا سکینہؑ مر گئی ہے شام کے زندان میں

گھر کو جانے کی تڑپ تھی دل میں بچّی کے مگر
قبر چھوٹی سی بنی ہے شام کے زندان میں

ماں سے کہتی تھی مجھے تنہا یہاں نہ چھوڑنا
ہائے تنہا رہ گئی ہے شام کے زندان میں

جس کا گریہ سن کے روتے تھے سبھی شام و سحر
وہ حزینہؑ چل بسی ہے شام کے زندان میں

خون سے یوں جم گیا تھا جِسم سے ہٹتا نہ تھا
دفن کُرتے میں ہوئی ہے شام کے زندان میں

پیاس لگتی تھی بہت بچّی کو ہر دن ہر گھڑی
اِس لئے اب بھی تَرِی ہے شام کے زندان میں

گُھپ اندھیرے میں اُسے لگتا تھا ڈر ہاں اِس لئے
روز شمع جل رہی ہے شام کے زندان میں

مجھ کو سینے پر لٹا لو ایک دن میں سُو سَکُوں
بابا سے کہتی رہی ہے شام کے زندان میں

کھو چکی اصغرؑ کو کربل میں سکینہؑ کو یہاں
گود خالی ہو چکی ہے شام کے زندان میں

قافلہ پھر سے وطن میں آ گیا ہے لَوٹ کر
یاد باقی رہ گئی ہے شام کے زندان میں

روتا جاتا تھا قلم رضوانؔ کا یہ سوچ کر
ظُلم کی آندھی چلی ہے شام کے زندان میں