بے کسی کا شہہ کی چرچا رہ گیا
مجراعی مہمان پیاسا رہ گیا
جب ہوئ بے پردہ اولادِ رسول
پھر جہاں میں کس کا پردہ رہ گیا
بے کسی کا شہہ کی چرچا رہ گیا
اس قدر تھا خشک حضرت کا گلہ
خنجرِ قاتل بھی پیاسہ رہ گیا
بے کسی کا شہہ کی چرچا رہ گیا
سب ہوئے سیراب تجھ سے اے فرات
قافلہ یثرب کا پیاسہ رہ گیا
بے کسی کا شہہ کی چرچا رہ گیا
فیض تھا بے پردگی میں آل کی
ہم گناہگاروں کا پردہ رہ گیا
بے کسی کا شہہ ی چرچا رہ گیا
ڈگمگاہ کر جب گِرے گھوڑے سے شاہ
کانپ کر عرشِ مولٰی رہ گیا
بے کسی کا شہہ کی چرچا رہ گیا
مُجراعی مہمان پیاسا رہ گیا
سوز۔ جناب شوکت علی مرحوم