Bibi Fatima Zehra Bibi Fatima Zehra
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

بی بی فاطمہ زہراؑ ، بی بی فاطمہ زہراؑ
اُمّت نے دیا تجھ کو ، صدمہ بڑا گہرا

جی بھر کے میں بابا پر ، گریہ بھی نہ کر پائی
اِس غم سے مِرے دل پر ، رنجیدہ گھٹا چھائی
ظالم نے لگایا ہے ، رونے پہ بھی پہرا

کتنے ہی مصائب کو ، حیدرؑ سے چُھپایا ہے
صدمے ہیں سہے دل پر ، کچھ بھی نہ بتایا ہے
گُھٹ گُھٹ کے تِرا بی بیؑ ، ہر لمحہ ہے گزرا

جلتا ہوا دروازہ ، فاسق نے گرایا ہے
بازو پہ تِرے بی بیؑ ، دُرّہ بھی لگایا ہے
یوں بنتِ پیمبرؑ کو ، اُمّت نے ہے مارا

دربار بلایا ہے ، ناموسِ رسالتؑ کو
ٹکڑوں میں اڑایا ہے ، احمدؐ کی عبارت کو
دونوں کا ہے اِس دل پر ، صدمہ بڑا گہرا

روتی ہی رہیں زہراؑ ، ہنستے رہے درباری
حق چھینا گیا بی بیؑ ، تھی پہلے سے تیاری
جُھٹلانا ہے زہراؑ کو ، یہ فیصلہ ٹھہرا

زینبؑ کے غمِ مادر ، میں آنسو نہیں رکتے
دل ماں کی جدائی پر ، حسنینؑ کے ہیں دکھتے
اولادِ پیمبرؑ کو ، ہے صدموں نے گھیرا

رضوانؔ صدا دے کر ، مہدیؑ کو بلائیں گے
زہراؑ پہ جو ڈھائے ہیں ، سب ظُلم بتائیں گے
پھر چُھپ نہیں پائے کا ، قاتل تِرا چہرا