زخمی پہلو ہے جَلتا دروازہ
آؤ فضہؑ سنبھالو زہراؑ کو
سلسلہ رُک نہ جائے سانسوں کا
آؤ فضہؑ سنبھالو زہراؑ کو
یہ وہی دَر ہے جس پہ پیغمبرؐ
آ کے قرآن پڑھتے تھے اکثر
اِس کو اُمّت نے خاک کر ڈالا
آؤ فضہؑ سنبھالو زہراؑ کو
زخمی پہلو ہے جَلتا دروازہ
پسلیاں توڑ کے وہ ہنستے تھے
ظلم ڈھا کر عَدُو یہ کہتے تھے
آج مُحسنؑ کو قتل کر ڈالا
آؤ فضہؑ سنبھالو زہراؑ کو
زخمی پہلو ہے جَلتا دروازہ
جاری زخموں سے خون ہوتا ہے
بنتِ احمدؑ کا دل بھی روتا ہے
زخموں سے چُور ہو گئیں زہراؑ
آؤ فضہؑ سنبھالو زہراؑ کو
زخمی پہلو ہے جَلتا دروازہ
ایسا کچھ ظلم ہو گیا اُس پر
سانس لینا بھی ہو گیا دوبھر
ہاتھ پہلو سے اب نہیں اُٹھتا
آؤ فضہؑ سنبھالو زہراؑ کو
زخمی پہلو ہے جَلتا دروازہ
ٹکڑے تحریرِ مصطفیٰ کر کے
ہائے دربار میں کھڑا کر کے
اجر دیتے تھے یوں رسالت کا
آؤ فضہؑ سنبھالو زہراؑ کو
زخمی پہلو ہے جَلتا دروازہ
منظرِ شام و کربلا کوفہ
سوچ کر کرتی رہتی تھیں گریہ
شاق دل پر بہت ہے یہ صدمہ
آؤ فضہؑ سنبھالو زہراؑ کو
زخمی پہلو ہے جَلتا دروازہ
سُن کے رضوان سے بیانِ غم
برپا ہوتا ہے گریہ و ماتم
خوں رلاتا ہے درد زہراؑ کا
آؤ فضہؑ سنبھالو زہراؑ کو
زخمی پہلو ہے جَلتا دروازہ