موسیٰءِ کاظمؑ پہ گِریہ کرتی ہے زنجیر بھی
نوحہ کرنے آگئی ہیں زینبِؑ دلگیر بھی
قید خانوں نے پڑھا کاظمؑ کا نوحہ برملا
گریہءِ خونیں ہوا اور ظُلم کی تشہِیر بھی
قید خانوں سے اذانوں کی صدا کہتی رہی
بے خطا ہے بے گناہ ہے اور بے تقصیر بھی
چھا گئی مولا رضاؑ پر اب یتیمی کی فِضا
چل گیا خنجر جگر پر اور دِل پر تِیر بھی
کربلا اور شام پر روتے تھے کاظمؑ قید میں
آج عابدؑ رو رہے ہیں ساتھ میں شبّیرؑ بھی
دُور اپنی بیٹیوں سے باپ کوئی نہ رہے
یہ دعا کرتی ہے رب سے آج خود تاثیر بھی
منتظر بابا کی تھیں چودہ برس سے بیٹیاں
اشکباری ساتھ اُن کے کرتی ہے تقدیر بھی
اُس امیرِ دِین کا پُل پر جنازہ ہے پڑا
جس کے قبضے میں ہے ساری خُلد کی جاگیر بھی
پُل پہ کاظم کے جنازے پر جو بی بی آئی ہے
مالکِ کون و مکاں ہے مالکِ تطہیر بھی
مولا کاظمؑ پر ہوئے اِتنے سِتم کہ الاماں
لکھ کے روتا ہے قلم رضوان کا تحریر بھی