عسکریؑ کی سامرہ میں ہئے شہادت ہو گئی
آج پھر سے فاطمہؑ کے گھر قیامت ہو گئی
خون میں اپنے ہی غلطاں ہیں غریبِ سامرہ
سرخ اپنے خون میں پھر سے امامت ہو گئی
زہر پا کر یوں تڑپتے جا رہے ہیں عسکریؑ
مجتبیٰؑ کی ذہن میں تازہ مصیبت ہو گئی
ایک اور معصوم کو مارا ہے ظُلم و جور سے
یوں شہادت اِس گھرانے کی روایت ہو گئی
چپکے چپکے رو رہے ہیں عسکریؑ کے گھر میں سب
رونے پہ پہرہ لگا ایسی شقاوت ہو گئی
پانچواں ہی سال تھا مہدیؑ کا جب ظلم و ستم
اسقدر بڑھنے لگا ہر سُو عداوت ہو گئی
محوِ گریہ حیدرِ کرارؑ بھی ہیں زہراؑ بھی
غمزدہ شہرِ مدینہ میں رسالت ہو گئی
رو رہے ہیں سب مُحب سُن کر مصیبت کا بیاں
اس طرح رضوان کی کامل عبادت ہو گئی