سر سے مہدیؑ کے جو بابا کا اُٹھا ہے سایہ
یاد مولاؑ کو سکینہؑ کا تڑپنا آیا
کمسنی میں جھو یتیمی کی اذیت دیکھی
تھا برس پانچواں جب باپ کی میت دیکھی
خون ٹپکتا ہوا جب باپ کا لاشہ آیا
عسکریؑ نے جو اسیری میں شہادت پائی
حجتِ حق کو سکینہؑ کی بہت یاد آئی
قید سے جس کا جنازہ بھی نہ کوئی لایا
سامرہ میں بھی چلی کرب و بلا جیسی ہوا
بے خطا مارا گیا پھر سے غریبِ زہراؑ
ہائے بابا جو لبوں پہ دمِ آخر آیا
کتنے تنہا رہے غربت میں زمانے کے امامؑ
کوئی پرسہ نہ دلاسہ نہ کوئی محوِ کلام
جب بھی تنہائی میں دم سینے میں گھٹتا پایا
باپ کے بعد جو مولاؑ پہ ستم ہونے کو تھے
غیب میں لے لیا اللہ نے محفوظ رہے
نیلا رخسار سکینہؑ کا مگر یاد آیا
روئے سجادؑ کو جب قیدِ پدر یاد آئی
یاد آتے رہے سب شام کے بیکس قیدی
شام والوں نے اسیروں پہ ستم کیا ڈھایا