اندھیری قید ہے اب سانس میری تھمنے والی ہے
چلے آؤ میرے بابا سكینہؑ مرنے والی ہے
رہا ہو کر چلے جائیں گے سب ہی اپنے اپنے گھر
مگر بیٹی تمہاری جان اب دے دے گی رو رو کر
یہ لگتا ہے یہاں اب قبر میری بننے والی ہے
اجالے میں میں رہتی تھی بُھلا بیٹھے ہو کیا بولو
جلا دو شمع کوئی آ كے یہ معلوم ہے تم کو
اندھیرے میں تمہاری بچی کتنا ڈرنے والی ہے
تمہارے سینے پر بابا مجھے سونے کی عادت تھی
میں عاشورا سے اب تک چین سے سو ہی نہیں پائی
بہت نیند آ رہی ہے آنکھ میری لگنے والی ہے
میں جس کی منتظر تھی موت وہ پیغام لے آئی
تمہارے پاس آنے کی گھڑی نزدیک ہے آئی
میرے سَر سے مصیبت قید کی اب ٹلنے والی ہے
ملا حکم رہائی ہے مگر میں گھر نہ جاؤں گی
جدا رہ کر میں سب سے شام کا زنداں بسائوں گی
مصیبت یہ بھی اک ننھی سی جاں پر پڑنے والی ہے