Abbas Abbas Abbas Abbas
Efforts: Syed Tazmeen Javed

عباسؑ عباسؑ عباسؑ عباسؑ
دیکھو عباسؑ میرے زائرین کو دیکھو
ان کے بہتے ہوئے اشکوں کو دیکھو
اور سنو ان کی ان گنت فریادوں کو سنو
ہاں میں ہوں حسینؑ نبی کا نواسا
کر سکتا ہوں میں بھی حاجات ان کی پوری
دیکھو یہ آتے ہیں بہت دور سے میری چاہت میں
مال وزرلٹا کے فقط میری یاد میں
آتے ہیں یہ تمہارے پاس مجھ سے پہلے
لیتے ہیں اجازت تم سے میری زیارت کے واسطے
عباسؑ عباسؑ عباسؑ عباسؑ

آپ کے در پہ ہم آگئے باوفا
آپ نے یہ شرف ہم کو بھی دے دیا
ہم سفر تھے میرے انبیاء اولیاء
ہر گھڑی لب پے بس ذکر تھا آپ کا
اب جہاں جس جگہ جب بھی میں جاؤنگا
اب میں صفار عباسؑ کہالؤں گا
عباسؑ عباسؑ عباسؑ عباسؑ

لشکر شہ کہ تم ہی علمدار ہو
جتنے ہیں باوفا سب کے سردار ہو
اپنے بابا کی طرح سے کرار ہوں
بیبیوں کی ردا کے نگہدار ہو
جو بھی شبیر کے اب عزادار ہیں
ہاں وہ سارے تیرے ہی وفادار ہیں
عباسؑ عباسؑ عباسؑ عباسؑ

تیرے بازوقلم ہو کے اٹھے علم
تیرے غم سے کمر شاہ دین کی ہے خم
ہاتھ سینے پہ ہیں اور آنکھیں ہیں نم
بڑھتا جائے گا اب کم نہ ہوگا یا غم
خوں میں تر مشک خیموں میں جب آے گی
عمو کہہ کر سکینہ تڑپ جائے گی
عباسؑ عباسؑ عباسؑ عباسؑ

جانتی ہے صدائین میری دیدہ تر
حد امکان پر بھی ہے تیری نظر
ہے مکاں المکاں تیرے زیر اثر
تم ہو باب الحوائج مجھے ہے خبر
تیرے در پہ ہوں فریاد پھر آئے گی
ہے یقین مجھ کو اوالد مل جائے گی
عباسؑ عباسؑ عباسؑ عباسؑ

کہہ رہی ہے صدا آج تک کربال
میں نے دیکھ ہی نہیں تیری جیسی وفا
تیرے در پر وفا نے بھی کلمہ پڑھا
یہ ظہور اور تضمین کی ہے صدا
رسم میثم کو ہم بھی دوہرائینگے
تیرے عشق میں یوں حد سے گزر جائیں گے
عباسؑ عباسؑ عباسؑ عباسؑ