Aey Khusa Sakina ki khair ho
Efforts: Syed Tazmeen Javed

سر شاہ پر جمی ہے نظر
اے خدا سکینہ کی خیر ہو
ہائے سکینہ ہائے پیاس

کرے التجا سبھی نوحہ گر
اے خدا سکینہ کی خیر ہو
ہائے سکینہ ہائے پیاس

ابھی مل کے قید نبھائیں گے
کسی روز سب چلے جائیں گے
تا ابد اسیر ہے یہ مگر
اے خدا سکینہ کی خیر ہو

جہاں قید بی بی غریب ہے
وہاں تیرگی بھی عجیب ہے
نا دیا ہے کوئی مزار پر
اے خدا سکینہ کی خیر ہو

ہائے سکینہ ہائے پیاس
ِکیوں چلی گئی اسے دو صدا
اسے کیا خبر, اسے کیا پتا
ہیں نجف کی کون سی راہ گزر
اے خدا سکینہ کی خیر ہو

ہائے سکینہ ہائے پیاس
کہیں روگئی, کہیں سو گئی ,
وہ تو غربتوں میں کھو گئی
اسے راز آیا نہ یہ سفر
اے خدا سکینہ کی خیر ہو

ہائے سکینہ ہائے پیاس
اے موال سن لے میری دعا
ہیں صدائے خرم بے نوا
میں علم کو کہتا ہوں تھام کر
اے خدا سکینہ کی خیر ہو

ہائے سکینہ ہائے پیاس