سر شاہ پر جمی ہے نظر
اے خدا سکینہ کی خیر ہو
ہائے سکینہ ہائے پیاس
کرے التجا سبھی نوحہ گر
اے خدا سکینہ کی خیر ہو
ہائے سکینہ ہائے پیاس
ابھی مل کے قید نبھائیں گے
کسی روز سب چلے جائیں گے
تا ابد اسیر ہے یہ مگر
اے خدا سکینہ کی خیر ہو
جہاں قید بی بی غریب ہے
وہاں تیرگی بھی عجیب ہے
نا دیا ہے کوئی مزار پر
اے خدا سکینہ کی خیر ہو
ہائے سکینہ ہائے پیاس
ِکیوں چلی گئی اسے دو صدا
اسے کیا خبر, اسے کیا پتا
ہیں نجف کی کون سی راہ گزر
اے خدا سکینہ کی خیر ہو
ہائے سکینہ ہائے پیاس
کہیں روگئی, کہیں سو گئی ,
وہ تو غربتوں میں کھو گئی
اسے راز آیا نہ یہ سفر
اے خدا سکینہ کی خیر ہو
ہائے سکینہ ہائے پیاس
اے موال سن لے میری دعا
ہیں صدائے خرم بے نوا
میں علم کو کہتا ہوں تھام کر
اے خدا سکینہ کی خیر ہو
ہائے سکینہ ہائے پیاس