یہ میری کب سے ہے خواہش کہ اے خدائے حسینؑ
میں روضہ دیکھ لوں جا کر اگر بُلائے حسینؑ
جو تھوڑی سانسیں مِری زندگی کی باقی ہیں
میں نام اُن کو بھی کر دوں فقط برائے حسینؑ
ہمیں بُلایا ہے مولاؑ نے تب ہی آئے ہیں
عزا میں آ نہیں سکتے اگر نہ لائے حسینؑ
خدا کے سامنے محشر میں سرخرو ہو گا
وہ جس کے پاس ہو اشکِ غمِ عزائے حسینؑ
میں راہِ حق سے کبھی بھی بھٹک نہیں سکتا
ہر ایک دھڑکنِ دل میں مِری سمائے حسینؑ
خدا کمال کو پہنچا دے میری خِلقت کو
مِرے خمیر کو کر دے تُو خاکِ پائے حسینؑ
تھا کھینچا حُرؑ کو بہت ظلمتِ سمندر نے
مگر وہ ڈوبے ہی کیسے جسے بچائے حسینؑ
کِیَا حسینؑ نے وہ سب کہ جو خدا نے کہا
خدا بھی اب وہ کرے گا کہ جو بتائے حسینؑ
وہ دوزخی ہے یقیناَ وہ جنتی ہے یہیں
جسے گرائے حسینؑ اور جسے اُٹھائے حسینؑ
بہت اُجالا ہر اِک سِمت پھیلے گا رضوانؔ
جو ایک پل کو ہی تیری لحد میں آئے حسینؑ