اُمّت نے محمدؐ کی ، جلتا ہوا دروازہ
زہراؑ پہ گرایا ہے
جس در پہ محمدؐ نے ، قرآن پڑھا آکر
اُس در کو جلایا ہے
وہ ظلم کیا لوگو ، معصومہؑ کے پہلو پر
تلوار کی نوکوں سے ، غش کھا کے گری مُضطر
محسنؑ کی شہادت نے ، حیدرؑ کے بھرے گھر میں
سب ہی کو رُلایا ہے
اُمّت نے محمدؐ کی ، جلتا ہوا دروازہ
زہراؑ پہ گرایا ہے
دربار میں غاصب کے ، بی بیؑ نے کہا آ کر
پہچانو مجھے لوگو ، نہ ظلم کرو مجھ پر
قرآن میں خالق نے ، میرے لئے کوثر کی
آیت کو اُتارا ہے
اُمّت نے محمدؐ کی ، جلتا ہوا دروازہ
زہراؑ پہ گرایا ہے
کیا عالمِ غربت تھا ، کچھ لوگوں نے بس مل کر
گریہ کیا چُپکے ، سے زہراؑ کے جنازے پر
ہے آج بھی تربت پر ، غربت کا وہی عالم
ویرانی کا سایہ ہے
اُمّت نے محمدؐ کی ، جلتا ہوا دروازہ
زہراؑ پہ گرایا ہے
اللہ ستم کیسا ، اُمّت نے یہ ڈھایا ہے
اولادِ پیمبر پر ، مظلومی کا سایہ ہے
حسنینؑ تڑپتے ہیں ، کلثومؑ پہ غش طاری
زینبؑ کو رلایا ہے
اُمّت نے محمدؐ کی ، جلتا ہوا دروازہ
زہراؑ پہ گرایا ہے
رضوانؔ کے نوحے نے ، ناصرؔ کی نواؤں نے
سینوں سے جو اٹھتی ہیں ، ماتم کی صداؤں نے
زہراؑ کے مصائب پر ، فریاد و فغاں کر کے
مہدیؑ کو بُلایا ہے
اُمّت نے محمدؐ کی ، جلتا ہوا دروازہ
زہراؑ پہ گرایا ہے